مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خطبۂ جمعہ کی زبان پر مزید بحث

اشاعت: 1937ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مضمون خطبۂ جمعہ کی زبان کے مسئلے پر جاری بحث کا تسلسل ہے۔ حیدرآباد دکن سے ایک صاحب نے مولانا مودودی کے اس عملی نتیجے سے تو اتفاق کیا کہ چونکہ عام مسلمان عربی زبان نہیں جانتے اس لیے مقامی زبان میں خطبہ دیا جا سکتا ہے، لیکن انہوں نے اس اصولی استدلال پر اعتراض کیا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عربی خطبہ دینے کے عمل کو محض ایک طبعی فعل قرار دیا گیا تھا نہ کہ ایک شرعی مصلحت پر مبنی حکم۔

مولانا مودودی اس اعتراض کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے اپنے موقف کی مزید وضاحت کرتے ہیں اور اسلام کی عالمگیر امت کی تشکیل میں زبان کے کردار پر اپنا نقطۂ نظر واضح کرتے ہیں۔

خطبۂ جمعہ کی زبان پر مزید بحث

نظام آباد ریاست حیدرآباد دکن سے ایک صاحب تحریر فرماتے ہیں:

خطبۂ جمعہ کی زبان کے مسئلے پر جناب نے نقلاً و عقلاً جو روشنی ڈالی ہے اور حالاتِ زمانہ کے لحاظ سے جو نتائج اخذ فرمائے ہیں، اس حد تک تو مجالِ اختلاف نہیں۔ سچ ہے کہ عربی زبان تو درکنار مسلمان اپنی ابتدائی دینی تعلیم بھی لازمی نہیں کر سکتے تو خطبۂ عربیہ کا تحکم کیا معنی۔ مجبوری کے لیے تو حرام کھانے کی بھی اجازت ہے، لیکن اس تحقیق میں جناب نے جو اصولی بحث چھیڑ دی ہے، وہ محلِ نظر ہے۔ رسول اللہ اور صحابہ کرام کے عمل کو مصلحتِ شرعی کے بجائے ایک طبعی فعل قرار دینے پر جو دلائل اور وجوہ جناب نے تحریر فرمائے ہیں وہ قلب کو مطمئن نہیں کرتے۔ بلاشبہ اسلام کو وطنی اور لسانی عصبیت سے کوئی علاقہ نہیں، بلکہ وہ آیا ہی اس لیے ہے کہ گروہِ انسانی میں جو ملکی و نسلی اور لسانی غلط تخیلات بنائے تفریق و تقسیم ہیں، ان کو مٹا کر مختلف اقوام کی جگہ ایک قومیت کی تعمیر کی جائے۔ اس قومیت کا نام اسلام <<اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ>> (آل عمران 19:3) اور قوم کا نام مسلم رکھا گیا <<سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ>> (الحج 78:22) جس طرح دنیا میں مختلف قومیں آباد ہوئیں اور ہیں اور ہر قوم کی ایک زبان رہی ہے تو فطرتاً اس قوم ’’مسلم‘‘ کی بھی کوئی ایک زبان ہونی چاہیے۔ جو نتائج فطرتاً و لازماً پیدا ہوتے ہیں، ان کو حاصل کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا۔ حکیم یہ نہیں کہے گا کہ تم مرض کو دفع کرو بلکہ ان ہدایتوں پر عمل کرائے گا جن پر عمل کرنے کا نتیجہ صحت ہے۔ حاکم قوم محکوم کی زبان کو بدل دینے کا حکم نہیں دیتی۔ فطرتاً محکوم حاکم قوم کی زبان اختیار کریں گے۔ پھر خالقِ فطرت ایسا حکم کیوں دیتا اور خالقِ فطرت کا رسول ایسی ہدایت کیوں دے جس کا ظہور بطور نتیجہ لازمی ہوتا؟ نزولِ قرآن کا مقصد یہی ہے کہ گروہِ انسانی میں حکومتِ الٰہیہ قائم کی جائے۔ حکومت کی زبان عربی ہے۔ حکومت کے کاروبار انجام دینے والوں کی زبان اور اس کے محکوم کی زبان لازماً وہی ہوگی۔ قرآن عربی ہونے کے متعلق جو آیتیں ہیں، وہ ملاحظہ ہوں:

<<اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ یوسف 2:12>>

ہم نے اس قرآن کو عربی میں اتارا ہے تا کہ تم بخوبی سمجھ سکو۔

<<فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِيْنَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا مریم 97:19>>

ہم نے اس قرآن کو تیری زبان میں آسان کر دیا تا کہ تو اس کے ذریعے سے پرہیز گاروں کو بشارت دے اور اکھڑ لوگوں کو عذاب سے ڈرائے۔

<<وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا طٰ 113:20>>

اور اس طرح ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن اتارا ہے۔

<<قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ O الزمر 28:39>>

قرآن عربی جس میں کوئی پیچیدگی نہیں تا کہ لوگ سمجھ کر خدا سے ڈریں۔

<<قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ O حم السجدہ 3:41>>

قرآن عربی ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

اگر ان آیتوں کا صرف یہ مطلب ہے کہ رسول اللہؐ عرب تھے، دعوتِ اسلام ابتداً اہلِ عرب کو دی گئی، اس لیے قرآن عربی زبان میں نازل ہوا تو یہ ایسی کیا ’’حکمت‘‘ کی بات تھی جو ایک ’’حکیم‘‘ نے بتائی۔ یہ نہ بھی بتایا جاتا تو بھی یہی سمجھا جاتا۔ قرآن اور رسول اللہؐ اہلِ عرب ہی کے لیے نہیں تھے تو پھر یہ کوئی قرینہ نہیں کہ ان آیتوں کے مخاطب تو اہلِ عرب تھے اور باقی آیتوں کے مخاطب تمام بنی آدم۔ اگر قرآن اپنے مخاطب کی زبان کے لحاظ سے عربی میں نازل ہوا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اکثر احکام بھی اہلِ عرب کے طبعی وملکی حالات کے لحاظ سے نازل ہوئے۔ جیسا کہ بعض کج فہم کہتے ہیں۔ وہ قرآن جو تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ (واقعہ 80:56) اور مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ (الزمر 1:39) ہے، جو ھُدًى لِّلنَّاسِ (البقرہ 185:2)، ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ O (التکویر 27:81) ہے، کل بنی آدم کے لیے جس کو صراطِ مستقیم کہا جا رہا ہے۔ پھر وہ بنی آدم جن میں بیسیوں زبانیں بولی جاتی ہیں، ان سب کے لیے قرآن عربی نازل کرنے میں کیا ’’حکمت‘‘ پنہاں ہے؟ وہ خدا جو اپنے رسول<<وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ>> (الانشراح 4:94) اور <<رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ>> (الانبیاء 21:107) کا مرتبہ دے کر ’’معلم کتاب و حکمت‘‘ بنا کر تمام بنی آدم کی ہدایت کے لیے بھیجتا ہے کیا اس بات پر قادر نہ تھا کہ ایسے عظیم المرتبت رسول کو کل زبانوں سے واقف کرا دے، اگر ’’احکم الحاکمین‘‘ کا یہ مقصد نہ تھا کہ اس کا دین ایک ہی زبان جاننے والوں کا دین ہو کر رہ جائے؟ نبی کریمؐ کا عربی زبان میں خطبہ دینا کسی شرعی مصلحت کا حامل نہیں تو غیر عربی جاننے والوں کے لیے قرآن عربی نازل کرنا اور اس کی اشاعت کے لیے صرف عربی زبان جاننے والوں کو منتخب کرنا کیا نزول قرآن کے مقصد کو فوت نہیں کرتا؟ بلاشبہ رسول عربی کے مخاطب اہل عرب تھے۔ مجلس نبویؐ کے حاضرین میں غیر زبان جاننے والوں کی تعداد کم رہتی تھی، مگر نبی کریمؐ نے جو دعوت نامے قیصر روم و شاہ ایران کو بھیجے تھے وہ کیوں عربی زبان میں بھیجے گئے؟ اگر مصلحت شرعی یہ نہیں ہے کہ دین کی اشاعت ایک ہی زبان میں ہو تو نبی کریمؐ نے اس کو کیوں ملحوظ رکھا؟ ’’معلم کتاب و حکمت‘‘ کا کوئی فعل جس کا تعلق رسالت سے ہو خالی از حکمت نہ ہونا چاہیے۔ تمام دنیا کے لیے قرآن عربی نازل کرنا اسی حکمت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس دین سے جو قوم پیدا ہوگی اس کے افراد ایک ہی زبان بولنے والے ہوں ۔ یہ بنائے تفریق نہیں نتیجۂ وحدت ہے۔ خلافِ فطرت نہیں عین فطرت ہے۔ دین الٰہی قائم ہوگا تو یہ مقصد خود بخود پورا ہو جائے گا۔ کسی قوم کو بھی لیجیے! افرادِ قوم کی ایک ہی زبان ہوگی ۔ آج ہندوستان میں جہاں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں ہندوستانی قومیت کی تعمیر کے لیے وحدتِ زبان کی گتھی سلجھائی جا رہی ہے۔ دین اسلام اپنے متبعین میں رشتۂ اخوت قائم کرتا ہے۔ زبان کے اختلاف سے اجنبیت باقی رہے گی جو منافیِ اخوت ہے۔ ایک انگریز، ایک ہندی، ایک عرب، ایک ترک، ایک جاپانی، ایک چینی، یہ چھے مسلمان ایک جگہ جمع ہیں۔ آپس میں تبادلۂ خیالات تو کجا اسلامی طریقے سے سلام بھی نہیں کر سکتے ۔

ایک مقام پر آپ یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اصلی اسلامی اسپرٹ کا تحفظ خالص عربیت کے تحفظ پر موقوف تھا۔ اس کے بعد یہ ارشاد کہ سیدنا عمر و سیدنا علی رضی اللہ عنہما میں اسی اسلامی اسپرٹ نے عربیت کا تعصب اور بھی زیادہ پیدا کر دیا مولانا! غور مکرر کا محتاج ہے۔ وہ لوگ جن کی مثال دنیائے اسلام آج تک نہ پیش کر سکی، جو نورِ ہدایت اور علم و عمل سے آراستہ ہو کر عصبیت جاہلیہ کو مٹانے کے لیے اُٹھے تھے اُن میں اسلام نے وہی عصبیت پیدا کر دی! حیرت کا مقام ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اصلی اسلامی اسپرٹ کا تحفظ خالص عربیت کے تحفظ پر موقوف تھا، اس لیے عربیت کا تعصب نہیں بلکہ اسلام کی عصبیت عربی زبان کے تحفظ کی متقاضی تھی۔ ورنہ جو استدلال جناب نے فرمایا ہے وہ تسلیم کر لیا جائے تو جہادِ اسلامی کے متعلق یہ اعتراض کس قدر وزنی ہو جائے گا کہ چونکہ عرب پہلے سے قتل و غارت گری کے عادی تھے۔ اسلام نے اس جذبے کو اور اُبھار دیا۔ گویا ان مقدس ہستیوں سے جو جاں نثاریاں ہوئیں، وہ دینی جذبہ نہیں تھا بلکہ ان کا عادی و طبعی فعل تھا۔ جس طرح عادی و طبعی فعل اور شرعی عمل کا امتیاز مشکل ہے، اس سے زیادہ اُس فعل کا تعین مشکل ہے جو عادی و طبعی بھی ہو اور مصلحتِ شرعی کا تقاضا بھی۔

صحابہ کرام یا ائمہ سلف نے اگر غیر عربی زبان میں خطبہ نہیں دیا، یا عجمیوں کو دعوتِ اسلام نہیں دی، یا غیر عربی زبان میں بات کرنا بھی مکروہ سمجھتے تھے تو وہ عادی و طبعی فعل یا حالاتِ زمانی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ <<وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ>> (البقرہ165:2) کا نتیجہ تھا۔ دینِ الٰہی اُن کے رگ و پے میں جاری و ساری تھا۔ ان کی روح، ان کے دل و دماغ، احکام الٰہی کے تابع تھے۔ وہ حکومتِ الٰہیہ کے سچے محکوم تھے۔ جس طرح یہ حکومت ان کو دنیا کی ہر چیز سے محبوب تھی اسی طرح حکومت کی زبان (جو عربوں کی نہیں بلکہ خدا کی حکومت کی زبان تھی) ان کو دوسری زبانوں سے زیادہ عزیز تھی کہ یہی انسانی فطرت ہے۔ آج جو لوگ حکومت کے شیدائی ہیں، فرنگیت میں جذب ہو گئے ہیں، اُن کا اوڑھنا بچھونا، انگریزی زبان ہے۔ حالانکہ شاہِ انگلستان نے یا وائسرائے بہادر نے ان کو اپنی زبان بدل دینے کا کوئی حکم نہیں دیا۔

عصبیت لسانی کو مٹانے کا منشا یہ ہے کہ عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔ اسلام سے پہلے یہی چیز وجہ امتیاز تھی۔ عجمی مسلمان ہونے کے بعد اُسی طرح صاحبِ عزت و توقیر ہیں جیسے عرب۔ اگر وہ عربی سے واقف نہیں تو ان کو کمتر نہ جانو۔ اسلامی قومیت میں جذب اور دینِ الٰہی میں شامل ہو جانے کے بعد ان کی زبان لازماً وہی ہو جائے گی جو حکومت کی زبان ہے کہ قوم مسلم دراصل حکومتِ الٰہی کی محکوم ہے۔

جس قوم کے ایمانیات و اعتقادات ایک ، جس کا مقصد حیات ایک ، جس کی زندگی کا نصب العین ایک ہو۔ جس کی تعلیمات ، اخلاقیات ، معاملات ، عادات میں یکسانیت ہو، اس قوم کی زبان ایک ہونا دین کا مقصد نہیں! تعجب ہے کہ جس طرح اسلام سے پہلے کعبہ صرف عربوں کا تھا، اسلام کے بعد وہ ہر مسلم کا کعبہ ہو گیا۔ اسی طرح اسلام سے پہلے عربی زبان صرف عربوں کی تھی، اسلام کے بعد وہ زبان صرف عربوں کی نہیں رہی بلکہ قومِ مسلم کی زبان ہے۔

جواب: معلوم ہوتا ہے کہ محترم مراسلہ نگار نے مسئلہ زیرِ بحث پر اصولی طریقے سے غور نہیں کیا ہے، اسی وجہ سے ان کے کلام میں مختلف مباحث ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہوگئے ہیں۔

مسئلے کا ایک پہلو فقہی ہے اور اس نقطۂ نظر سے صرف یہ امر بحث طلب ہے کہ آیا خطبے کو عربی زبان میں پڑھنا شرعاً ضروری ہے یا نہیں؟ اس سوال کے متعلق کسی صحیح نتیجے پر پہنچنے کے لیے حسب ذیل اُمور کی تحقیق ہونی چاہیے : کیا خطبۂ عربیہ کے وجوب پر کوئی نص ہے؟ اگر نص نہیں ہے اور یہ حکم صرف شارع کے عمل سے ماخوذ ہے تو کیا شارع کا یہ عمل سنت کی تعریف میں آتا ہے؟ آیا اصطلاحِ شرع میں سنت ہر اُس عمل کو کہتے ہیں جو شارع نے کیا ہو، اس باب میں شرعی عمل اور عادی وطبعی عمل میں کوئی فرق کیا گیا ہے؟ اگر فرق ہے تو شارع کا عربی میں خطبہ دینا کس قسم کا فعل ہے ، شرعی یا طبعی؟

مسئلے کا دوسرا پہلو مصالح سے تعلق رکھتا ہے اور اس بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے حسب ذیل اُمور کا تصفیہ ضروری ہے؟ خطبے کا مقصد کیا ہے؟ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شارع نے اور صدرِ اوّل کے ائمہ نے جو طریقہ اختیار کیا تھا اُس کی پابندی سے آج بھی وہ مقصد حاصل ہوتا ہے یا نہیں؟ شریعت میں مقصد زیادہ اہمیت رکھتا ہے یا وہ وسیلہ جو اس کو حاصل کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہو؟ اگر مقصد زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور کسی خاص صورتِ حال میں طریقۂ متوارثہ کی پابندی سے وہ فوت ہورہا ہے اور اس صورتِ حال کو بدلنے پر ہم قادر نہ ہوں تو کیا ہم اس اصولِ شرعی کے تحت طریقۂ متوارثہ میں کوئی تغیر کر سکتے ہیں؟ اگر تغیر کرنے کا حق ہم کو حاصل ہے تو حالات کے لحاظ سے ہمیں کتنا اور کس طرح کا تغیر کرنا چاہیے؟

یہ ہیں وہ تنقیحات جن کے تصفیے پر زبان خطبہ کے سوال کا حل منحصر ہے۔ اگر مراسلہ نگار نے ان تنقیحات کو پیش نظر رکھ کر بحث کی ہوتی تو ہم کو یہ معلوم کرنے میں آسانی ہوتی کہ انھیں کن اُمور میں ہم سے اتفاق ہے اور کن اُمور میں اختلاف۔ پھر جو اُمور مختلف فیہ باقی رہ جاتے ، ان پر مزید بحث کر کے صحیح نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی جاسکتی تھی ، لیکن جو طریق بحث انھوں نے اختیار کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل اُمور تنقیح طلب ان کے سامنے واضح نہیں ہیں بلکہ وہ محض چند ضمنی مباحث میں اُلجھ کر رہ گئے ہیں۔ بہرحال چونکہ وہ خطبے کے مسئلے میں مانعین تغیر کے عام خیالات کی ترجمانی کر رہے ہیں، اس لیے ہم ان کے مضمون کو شائع کر کے اختصار کے ساتھ ان غلط فہمیوں کو رفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جن کی وجہ سے ان کو اور اسی طرز خیال کے دوسرے لوگوں کو اس مسئلے میں اُلجھن پیش آئی ہے۔

صاحب مضمون نے زبان کے متعلق جو طریق استدلال اختیار کیا ہے، وہ قریب قریب اسی طرح کا استدلال ہے جس کی بنا پر ایک گروہ اس سے پہلے قرآن مجید کا ترجمہ دوسری زبانوں میں کرنے کی مخالفت کر چکا ہے۔ اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ اگر ان دلائل کو تسلیم کر لیا جائے تو قرآن مجید کا ترجمہ کرنا بھی اسی طرح ناجائز قرار پائے گا، جس طرح غیر عربی میں خطبہ دینا ناجائز قرار دیا جاتا ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ عربی زبان اسلام کی سرکاری زبان ہے، جو لوگ اسلام کے محکوم ہیں، ان پر اس زبان سے واقف ہونا لازم ہے۔ اور اگر وہ عربی سے واقفیت پیدا نہیں کرتے تو یہ ان کا قصور ہے، لہٰذا ان کو سمجھانے کے لیے قرآن کے مطالب کو ان کی مادری زبان، یا بالفاظ دیگر کسی ”غیر سرکاری زبان“ میں بیان نہیں کیا جائے گا۔ اسی طریقے سے آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ ان کے سامنے اسلامی احکام، اسلامی عقائد، اسلام کی اخلاقی تعلیمات اور دوسری ”سرکاری“ چیزوں کو بھی صرف ”سرکاری زبان“ ہی میں بیان کیا جائے گا، کوئی چیز غیر سرکاری زبان میں نہ بیان ہوگی خواہ وعظ کی صورت میں ہو یا تحریر کی صورت میں۔

فرمائیے! اگر کوئی شخص یہ مؤقف اختیار کرے تو کیا آپ اس کو قبول کریں گے؟ غالباً نہیں، اس لیے کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ایسا کرنے سے مسلمانوں کی تقریباً ۸۰ فی صد آبادی اسلام کے علم سے بالکل بے بہرہ ہو جائے گی۔ اسی بنا پر آپ قرآن حکیم کے ترجمے دوسری زبانوں میں کرنے کو صرف جائز نہیں بلکہ ضروری سمجھتے ہیں، اور اسی بنا پر آپ ”غیر سرکاری زبان“ میں ”سرکاری“ مضامین کی اشاعت کو مواعظ اور تحریروں کی شکل میں صرف گوارا ہی نہیں بلکہ پسند کرتے ہیں۔ جب حال یہ ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ یہ تمام بحثیں صرف خطبۂ جمعہ کے مسئلے میں پیدا ہوتی ہیں؟ مسجد میں اگر کوئی شخص نماز کے بعد یا خطبے سے پہلے عجمی زبان میں وعظ کہے تو جائز بلکہ مفید۔ اور انھی مضامین کو اگر وہی شخص منبر کی دو سیڑھیوں پر چڑھ کر خطبۂ جمعہ کی حیثیت سے بیان کرنے لگے تو ناجائز بلکہ بدعت! یہ کھلی ہوئی ناہمواری جو آپ کے طرزِ عمل میں پائی جاتی ہے، اس کو شریعت کی طرف منسوب کرنے سے پہلے اپنے نفس کو ٹٹول کر دیکھیے کہ وہاں کوئی غیر شرعی محرک تو چھپا ہوا نہیں ہے؟

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ عادتِ قدیمہ کی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں، اور جب کوئی مجتہد، حالات کے تغیر اور زمانے کی بدلی ہوئی ضروریات کو محسوس کر کے، طریقۂ متوارثہ میں ترمیم کی جرأت کرتا ہے، تو وہ محض اس بنا پر اس کی مخالفت کرنے لگتے ہیں کہ اس نے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا ہے جس سے ان کے طبائع مانوس نہیں ہیں، مگر جب یہ نیا طریقہ چل پڑتا ہے اور اجنبیت دُور ہو جاتی ہے تو لوگ اس کو نہ صرف جائز بلکہ مفید سمجھنے لگتے ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے جب قرآن مجید کا ترجمہ فارسی میں کیا تو اسی بنا پر ان کی مخالفت کی گئی تھی۔ اُن سے پہلے ایک دَور ایسا بھی گزرا ہے جس میں عربی زبان کے سوا کسی اور زبان میں دعا کرنا، وعظ کہنا اور دینی مسائل پر اظہارِ خیال کرنا ایک نئی چیز تھی، اور لوگ اس پر معترض ہوتے تھے۔ ترکی میں جب پہلی مرتبہ جدید طرز پر فوجوں کو مرتب کرنے اور نئے آلاتِ جنگ کا استعمال رائج کرنے کی کوشش کی گئی تو ایک جماعت نے اس پر سخت اعتراض کیا تھا۔ ان میں سے ہر موقع پر یہی کہا گیا کہ یہ بدعت اور احداث فی الدین ہے، مگر آج کوئی نہیں جس کو ان چیزوں پر اعتراض ہو۔ اعتراض تو درکنار، آج عامی اور عالم سب ان کو جائز بلکہ مستحسن سمجھتے ہیں! اس کی وجہ پر آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس قسم کے اعتراضات دراصل غیر شرعی محرکات سے پیدا ہوتے ہیں، پھر ان کی تائید میں شریعت سے استدلال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اسلام میں عربی زبان کی حیثیت کے متعلق آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس میں صحیح اور غلط دونوں کی آمیزش ہے۔ یہاں تک تو آپ کی بات بالکل درست ہے کہ اسلام سے عربی زبان کا خاص تعلق ہے۔ قرآن عربی میں نازل ہوا ہے۔ نبیؐ کے اُسوۂ حسنہ اور صحابہ کرامؓ کی سیرت کے متعلق تمام معلومات عربی میں ہیں۔ اسلام کا صحیح علم حاصل ہونا، جس پر انسان کے مسلمان ہونے کا مدار ہے، عربی زبان کی واقفیت کے بغیر ممکن نہیں۔ امت مسلمہ کی وحدت برقرار رکھنے کے لیے بھی عربی زبان ایک ضروری اور ناگزیر ذریعہ ہے۔ انھی وجوہ سے ہر زمانے کے علما نے عربی کی تعلیم پر زور دیا ہے، اور انھی وجوہ سے آج بھی ہر صاحبِ عقل و فہم مسلمان یہ ضروری سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کی تعلیم میں عربی کو بحیثیت ایک ثانوی زبان کے لازمی طور پر شامل ہونا چاہیے۔ یہ تمام باتیں بالکل برحق ہیں اور ان میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں، لیکن جیسا کہ اس سے پہلے میں عرض کر چکا ہوں ”ہے“ اور ”ہونا چاہیے“ میں بڑا فرق ہے۔ جو کچھ ہونا چاہیے اس کے لیے ضرور کوشش کیجیے، لیکن اگر عالمِ واقعہ میں موجود نہیں ہے تو اپنے طرزِ عمل کو واقعات کے مطابق بنانے سے انکار نہ کر دیجیے۔ عقل اور دین دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ مقصد کو وسیلے پر مقدم رکھا جائے۔ ایک وسیلہ اگر زیادہ بہتر ہے، لیکن اب کارگر نہیں رہا تو دوسرا وسیلہ اختیار کیجیے جو کارگر ہو، اگرچہ بہتر نہ ہو، لیکن اگر آپ وسیلے پر اصرار کر کے اصل مقصد کو کھو دیں گے تو یہ نہ عقل مندی ہے نہ دین داری۔

اب آپ خود غور کیجیے کہ دین کا اصل مقصد کیا ہے؟ آیا یہ ہے کہ عربی زبان کو ”سرکاری“ اور قومی زبان کی حیثیت سے پھیلا یا جائے؟ یا یہ کہ خدا کے بندوں کو اس کی تعلیم اور اس کے احکام سے واقف کرایا جائے؟ ظاہر ہے کہ اصل مقصد دوسری چیز ہے۔ پس جب حال یہ ہے اور ہر شخص اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ غیر عربی ممالک میں دو فی صدی آدمی بھی عربی زبان سمجھنے والے باقی نہ رہے، اور ہم اس طاقت سے محروم ہو چکے ہیں، جس سے صدرِ اوّل کے مسلمانوں نے عربی کے علم کو پھیلایا تھا، تو آپ کو سوچنا چاہیے کہ ہمارے لیے صحیح طریق کار کیا ہے؟ یہ کہ مقصدِ اصلی کو کسی دوسرے ممکن ذریعے سے حاصل کریں؟ یا یہ کہ قدیم ذریعے پر اصرار کر کے مقصد کو فوت ہو جانے دیں؟

آپ نے جن دلائل سے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ دین کی اشاعت ایک ہی زبان میں ہونی ضروری ہے، وہ درحقیقت نہایت کمزور ہیں، اور اگر آپ زیادہ غوروفکر سے کام لیں گے تو ان کی کمزوری آپ پر خود ہی واضح ہو جائے گی۔ دین ایک عالمگیر حقیقت ہے۔ انسانی زبانوں میں سے کسی کے ساتھ اس کا مختص بالذات رشتہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اصل مقصد دین کو اپنے بندوں تک پہنچانا ہے، اور اس مقصد کے لیے جس طرح وہ ایک انسان کو وسیلہ بناتا ہے، اسی طرح ایک زبان کو بھی وسیلہ بناتا ہے۔ نبی اکرمؐ سے پہلے اسی دین کو پہنچانے کے لیے وہ دوسری قوموں کے انسانوں اور دوسری قوموں کی زبانوں کو بھی وسیلہ بنا چکا ہے۔ پس اگر آخری تبلیغ کے موقع پر اس نے عربی قوم اور عربی زبان کو وسیلہ بنایا تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ اب صرف عربی زبان ہی سے اسلام کا رشتہ ہو گیا ہے اور دوسری زبانوں کو تبلیغِ دین کے لیے استعمال کرنا ناجائز یا مکروہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو نبیؐ صریح ہدایت فرما دیتے کہ عربی زبان کے سوا کسی زبان کو تبلیغِ دین کے لیے قیامت تک استعمال نہ کرنا۔ حالانکہ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو غیر زبانیں سیکھنے کا حکم دیا تھا اور عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں حضرت سلمان فارسیؓ جیسے غیر عربی الاصل حضرات عجمیوں کو ان کی اپنی زبانوں میں دین کی تعلیمات سمجھاتے تھے۔

رہی یہ بات کہ قیصرِ روم اور شاہِ ایران کو جو دعوت نامے بھیجے گئے تھے وہ عربی میں کیوں بھیجے گئے، تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ نبیؐ نے جو خطوط ان لوگوں کو بھیجے تھے وہ ایک ملک کے فرمانروا کی طرف سے دوسرے ملک کے فرمانرواؤں کی جانب تھے، اور ایسی مراسلت میں اپنے ملک کی زبان کے بجائے مخاطب کے ملک کی زبان استعمال کرنا اس مملکت کی توہین ہے، جس کا فرمانروا کمتر مؤقف اختیار کرے اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر حضورؐ تبلیغ کی خاطر ہر مخاطب فرمانروا کو اسی کی زبان میں خطاب فرمانا چاہتے بھی تو اس وقت عملاً اس کا انتظام مشکل تھا، کیونکہ صحابہ میں بہت کم لوگ ایسے تھے جو غیر عربی زبانیں جانتے ہوں، اور جو لوگ جانتے تھے وہ بھی ان زبانوں کے ایسے ادیب نہ تھے کہ ایک نبی کے شایانِ شان فصیح و بلیغ خط لکھ سکتے ۔ نیز یہ بات بھی حضورؐ کو معلوم تھی کہ جن بادشاہوں کے نام آپ دعوت نامے بھیج رہے ہیں، ان کو ایسے لوگ میسر آسکتے ہیں جو ان خطوط کا صحیح مفہوم انھیں سمجھا سکتے ہیں[واضح رہے کہ ایرانی اور رومی دونوں سلطنتوں کے حدود میں اور ان کے زیر اثر علاقوں میں عربی ریاستیں موجود تھیں، بڑے بڑے عرب قبائل آباد تھے اور عرب سرداروں کی رسائی قیصر و کسریٰ کے درباروں میں تھی۔ اسی طرح مصر اور حبش کے ساتھ بھی عرب کے وسیع تجارتی تعلقات تھے اور دونوں ملکوں کے اپنے حدود میں عربی بولنے والی آبادیاں پائی جاتی تھیں۔]۔ پس حضورؐ کا عربی میں اسلام کے دعوت نامے بھیجنا عملی زندگی کے موانع کا نتیجہ تھا، اور اس کی حیثیت بالکل ایسی ہی تھی جیسے پانی نہ ملنے کی صورت میں آپ نے تیمم بھی کیا ہے اور قیام کی طاقت نہ ہونے کی حالت میں بیٹھ کر بھی نماز پڑھی ہے۔ حالانکہ اگر اللہ چاہتا تو ہر جگہ آپ کے لیے ایک چشمہ پیدا کر سکتا تھا، اور آپ کو ہمیشہ بیماری اور ضعف سے محفوظ رکھ سکتا تھا۔ ایسی مثالوں سے یہ نتیجہ نکالنا ہرگز درست نہیں ہے کہ شریعت دین کی تبلیغ کو صرف عربی زبان تک محدود رکھنا چاہتی ہے، اور اس کا منشا یہ ہے کہ جو لوگ اس زبان سے واقف نہ ہوں، ان کو ضلالت اور جہالت میں مبتلا رہنے دیا جائے۔

صحابہ کرام اور ائمہ متقدمین کی غیر زبانوں سے نفرت اور عربیت پر ان کے اصرار کے متعلق میں نے ”تعصب“ کا لفظ جو استعمال کیا تھا اس سے آپ غلط فہمی میں پڑ گئے۔ آپ نے یہ سمجھا کہ میں ان کی طرف ”عصبیت جاہلیہ“ کو منسوب کر رہا ہوں۔ حالانکہ میرا مقصد کچھ اور تھا۔ تعصب محض جاہلیت ہی کا نہیں ہوتا۔ ایک قسم کا تعصب وہ ہے جو ہر انسان کی فطرت میں ہوتا ہے اور جس کو عیب میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر ایک ہندوستانی جب چین جائے گا تو وہاں کی زبان، عادات، خصائل، طرزِ بود و ماند ہر چیز سے اجنبیت محسوس کرے گا۔ ان پر ناک بھوں چڑھائے گا۔ اور اس کو پسند نہ کرے گا کہ اس کے اہل وعیال ”چینیت“ اختیار کریں۔ یہ ایک فطری منافرت ہے جو ہر انسان کی طبیعت میں اجنبی چیزوں سے ہوتی ہے۔ صحابہ کرامؓ بھی بہرحال انسان تھے اور عجمیت سے ان کی نفرت ایک حد تک اس بنا پر بھی تھی۔ اس میں مزید اضافہ اس وجہ سے ہو گیا کہ عجمی اقوام اس وقت سب کی سب کافر تھیں اور ان کے جو افراد مسلمان ہو جاتے تھے، ان کو صحابہ کرام عربیت کے رنگ میں رنگ لینا ضروری سمجھتے تھے، تاکہ وہ کفار کی جمعیت سے الگ ہو کر اہل اسلام کی جمعیت میں جذب ہو جائیں۔ نیز صحابہ کرامؓ یہ بھی پسند نہ کرتے تھے کہ مسلمان (جو اس وقت تمام تر عرب ہی تھے) عجمی ممالک میں اہل عجم کی سی بولیاں بولنا اور ان کے سے لباس پہننا شروع کر دیں۔ کیونکہ اس طرح کفار کی اکثریت میں ان کے جذب ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ پس صحابہ کرام نے جو طرزِ عمل اختیار کیا، اس کی بنیاد دو وجوہ پر تھی۔ ایک وجہ فطری تھی اور دوسری وجہ حالات کے اقتضا سے تعلق رکھتی تھی۔ ان میں سے پہلی وجہ کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتی، اس لیے اس کو حجت بنانا درست نہیں۔ رہی دوسری وجہ تو اب وہ حالات باقی نہیں ہیں۔ اُردو، فارسی، ترکی، جاوی اور ایسی ہی دوسری زبانیں بھی عربی کی طرح اب مسلمانوں کی زبانیں ہیں، اور ان سے کسی اسلامی مصلحت کے تحت نفرت و اجتناب کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی ہے۔

ترجمان القرآن

(جمادی الآخرہ و رجب ۱۳۵۶ھ / اگست و ستمبر ۱۹۳۷ء)