اسلام کا اصلی معیار
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
برادرانِ اسلام! مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی یہ کتاب "اسلام کا اصلی معیار" ایمان و اسلام کی حقیقی تعریف، اس کے معیارِ اعلیٰ، اور دنیوی و آخرتی دونوں جہتوں پر غور کرتی ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف زبانی اقرار یا ظاہری رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے جس میں انسان کا پورا وجود—جینا، مرنا، محبت، نفرت، لین دین، عبادات—صرف اللہ کے لیے خالص ہونا چاہیے۔ مولانا اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ اسلام کو صرف قانونی یا فقہی حدود تک محدود سمجھ لیتے ہیں، جبکہ اللہ کے ہاں اصل معیار دل کی خلوص اور عمل کی خالصانگی ہے۔
کتاب کا آغاز قرآن مجید کی آیتِ کریمہ سے ہوتا ہے: «قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ»، جو یہ بتاتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی پوری زندگی، ان کی عبادت، ان کا جینا اور مرنا—سب کچھ اللہ کے لیے ہے۔ اس آیت کی روشنی میں مولانا یہ واضح کرتے ہیں کہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ کے لیے وقف کر دے اور اس میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ یہ صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ روزمرہ کے تمام معاملات—دوستی، دشمنی، خرچ کرنا، روکنا—سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلام کا اصلی معیار
برادرانِ اسلام! اللہ تعالیٰ اپنی کتابِ پاک میں فرماتا ہے:
<<قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۰ لَا شَرِیْكَ لَهٗ ج وَ بِذٰلِكَاُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ >>
یعنی ”(اے محمدؐ) کہو میری نماز اور میرے تمام مراسمِ عبودیت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ کے لیے ہے جو ساری کائنات کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے میں اس کی اطاعت میں سرِ تسلیم خم کرتا ہوں۔ (انعام: ۱۶۲-۱۶۳)
اس آیت کی تشریح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے ہوتی ہے ؛
<<مَنْ أَحَبَّ لِلّٰهِ وَاَبْغَضَ لِلّٰهِ وَاَعْطٰى لِلّٰهِ وَمَنَعَ لِلّٰهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيْمَانَ >>
جس نے کسی سے دوستی و محبت کی تو خدا کے لیے، اور دشمنی کی تو خدا کے لیے، اور کسی کو دیا تو خدا کے لیے، اور کسی سے روکا تو خدا کے لیے، اُس نے اپنے ایمان کو کامل کر لیا، یعنی وہ پورا مومن ہو گیا۔
پہلے جو آیت میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی بندگی کو اور اپنے جینے اور مرنے کو صرف اللہ کے لیے خالص کرلے اور اللہ کے سوا کسی کو اس میں شریک نہ کرے یعنی اس کی بندگی اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ہو اور نہ اس کا جینا اور مرنا۔
اس کی جو تشریح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے میں نے آپ کو سنائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اور دشمنی اور اپنی دنیوی زندگی کے معاملات میں اس کا لین دین خالصۃً خدا کے لیے ہونا عین تقاضائے ایمان ہے۔ اس کے بغیر ایمان ہی کی تکمیل نہیں ہوئی کجا کہ مراتب عالیہ کا دروازہ کھل سکے۔ جتنی کمی اس معاملہ میں ہوگی اتنا ہی نقص آدمی کے ایمان میں ہوگا اور جب اس حیثیت سے آدمی مکمل طور پر خدا کا ہوجائے تب کہیں اس کا ایمان مکمل ہوتا ہے۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی چیزیں صرف مراتب عالیہ کا دروازہ کھولتی ہیں ورنہ ایمان و اسلام کے لیے انسان کے اندر یہ کیفیت پیدا ہونا شرط نہیں ہے یعنی بالفاظ دیگر اس کیفیت کے بغیر بھی انسان مومن و مسلم ہو سکتا ہے مگر یہ ایک غلط فہمی ہے اور اس غلط فہمی کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ فقہی اور قانونی اسلام اور اس حقیقی اسلام میں جو خدا کے ہاں معتبر ہے فرق نہیں کرتے۔
فقہی اور قانونی اسلام میں آدمی کے قلب کا حال نہیں دیکھا جاتا اور نہ ہی دیکھا جا سکتا۔ بلکہ صرف اُس کے اقرارِ زبانی کو اور اس امر کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے اندر اُن لازمی علامات کو نمایاں کرتا ہے یا نہیں جو اقرارِ زبانی کی توثیق کے لیے ضروری ہیں۔ اگر کسی شخص نے زبان سے اللہ اور رسول اور قرآن اور آخرت اور دوسرے ایمانیات کو ماننے کا اقرار کر لیا اور اس کے بعد وہ ضروری شرائط بھی پوری کر دیں جن سے اُس کے ماننے کا ثبوت ملتا ہے تو وہ دائرۂ اسلام میں لے لیا جائے گا اور سارے معاملات اس کے ساتھ مسلمان سمجھ کر کیے جائیں گے۔
لیکن یہ چیز صرف دُنیا کے لیے ہے اور دُنیوی حیثیت سے وہ قانونی اور تمدّنی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر مُسلم سوسائٹی کی تعمیر کی گئی ہے۔ اس کا حاصل اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ایسے اقرار کے ساتھ جتنے لوگ مسلم سوسائٹی میں داخل ہوں وہ سب مسلمان مانے جائیں، ان میں سے کسی کی تکفیر نہ کی جائے، ان کو ایک دوسرے پر شرعی اور قانونی اور اخلاقی اور معاشرتی حقوق حاصل ہوں، اُن کے درمیان شادی بیاہ کے تعلقات قائم ہوں، میراث تقسیم ہو اور دوسرے تمدنی روابط وجود میں آئیں ۔
لیکن آخرت میں انسان کی نجات اور اس کا مسلم و مومن قرار دیا جانا اور اللہ کے مقبول بندوں میں شمار ہونا اس قانونی اقرار پر مبنی نہیں ہے، بلکہ وہاں اصل چیز آدمی کا قلبی اقرار، اس کے دل کا جھکاؤ اور اس کا برضا و رغبت اپنے آپ کو بالکلیہ خدا کے حوالے کر دینا ہے۔ دنیا میں جو زبانی اقرار کیا جاتا ہے وہ تو صرف قاضیِ شرع کے لیے اور عام انسانوں اور مسلمانوں کے لیے ہے کیونکہ وہ صرف ظاہر ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ مگر اللہ آدمی کے دل کو اور اس کے باطن کو دیکھتا ہے اور اس کے ایمان کو ناپتا ہے۔ اس کے ہاں آدمی کو جس حیثیت سے جانچا جائے گا وہ یہ ہے کہ آیا اس کا جینا اور مرنا اور اُس کی وفاداریاں اور اس کی اطاعت و بندگی اور اس کا پورا کارنامہ زندگی اللہ کے لیے تھا یا کسی اور کے لیے؟ اگر اللہ کے لیے تھا تو وہ مسلم اور مومن قرار پائے گا، اور اگر کسی اور کے لیے تھا تو نہ وہ مسلم ہو گا نہ مومن۔ اس حیثیت سے جو جتنا خام نکلے گا اتنا ہی اس کا ایمان اور اسلام خام ہوگا، خواہ دنیا میں اس کا شمار کیسے ہی بڑے مسلمانوں میں ہوتا رہا ہو اور اس کو کتنے ہی بڑے مراتب دیئے گئے ہوں۔ اللہ کے ہاں قدر صرف اس چیز کی ہے کہ جو کچھ اُس نے آپ کو دیا ہے وہ سب کچھ آپ نے اُس کی راہ میں لگا دیا یا نہیں۔ اگر آپ نے ایسا کر دیا تو آپ کو وہی حق دیا جائے گا جو وفاداروں کو اور حقِ بندگی ادا کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔ اور اگر آپ نے کسی چیز کو خدا کی بندگی سے مستثنیٰ کر کے رکھا تو آپ کا یہ اقرار کہ آپ مسلم ہوئے، یعنی یہ کہ آپ نے اپنے آپ کو بالکل خدا کے حوالے کر دیا محض ایک جھوٹا اقرار ہو گا جس سے دنیا کے لوگ دھوکا کھا سکتے ہیں، جس سے فریب کھا کر مسلم سوسائٹی آپ کو اپنے اندر جگہ دے سکتی ہے، جس سے دنیا میں آپ کو مسلمانوں کے سے تمام حقوق مل سکتے ہیں، لیکن اس سے فریب کھا کر خدا اپنے ہاں آپ کو وفاداروں میں جگہ نہیں دے سکتا۔
یہ قانونی اور حقیقی اسلام کا فرق جو میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے، اگر آپ اس پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کے نتائج صرف آخرت ہی میں مختلف نہیں ہوں گے بلکہ دنیا میں بھی ایک بڑی حد تک مختلف ہیں۔ دنیا میں جو مسلمان پائے گئے ہیں یا آج پائے جاتے ہیں ان سب کو دو قسموں پر منقسم کیا جاسکتا ہے:
ایک قسم کے مسلمان وہ جو خدا اور رسول کا اقرار کر کے اسلام کو بحیثیت اپنے مذہب کے مان لیں مگر اپنے اس مذہب کو اپنی کل زندگی کا محض ایک جز اور ایک شعبہ ہی بنا کر رکھیں۔ اس مخصوص جز اور شعبے میں تو اسلام کے ساتھ عقیدت ہو، عبادت گزاریاں ہوں، تسبیح و مصلیٰ ہو، خدا کا ذکر ہو، کھانے پینے اور بعض معاشرتی معاملات میں پرہیزگاریاں ہوں اور وہ سب کچھ ہو جسے مذہبی طرز عمل کہا جاتا ہے، مگر اس شعبے کے سوا ان کی زندگی کے دوسرے تمام پہلو ان کے مسلم ہونے کی حیثیت سے مستثنیٰ ہوں۔ وہ محبت کریں تو اپنے نفس یا اپنے مفاد یا اپنے ملک و قوم یا کسی اور کی خاطر کریں۔ وہ دشمنی کریں اور کسی سے جنگ کریں تو وہ بھی ایسے ہی کسی دنیوی یا نفسانی تعلق کی بنا پر کریں۔ ان کے کاروبار، ان کے لین دین، ان کے معاملات اور تعلقات، ان کا اپنے بال بچوں اپنے خاندان، اپنی سوسائٹی اور اپنے اہل معاملہ کے ساتھ برتاؤ سب کا سب ایک بڑی حد تک دین سے آزاد اور دنیوی حیثیتوں پر مبنی ہو۔ ایک زمیندار کی حیثیت سے، ایک تاجر کی حیثیت سے، ایک حکمران کی حیثیت سے، ایک سپاہی کی حیثیت سے، ایک پیشہ ور کی حیثیت سے ان کی اپنی ایک مستقل حیثیت ہو جس کا ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ پھر اس قسم کے لوگ مل کر اجتماعی طور پر جو تمدنی، تعلیمی اور سیاسی ادارے قائم کریں وہ بھی ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے خواہ جزئی طور پر متاثر یا منسوب ہوں لیکن فی الواقع ان کو اسلام سے کوئی علاقہ نہ ہو۔
دوسری قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اپنی پوری شخصیت کو اور اپنے سارے وجود کو اسلام کے اندر پوری طرح دے دیں۔ ان کی ساری حیثیتیں ان کے مسلمان ہونے کی حیثیت میں گم ہو جائیں۔ وہ باپ ہوں تو مسلمان کی حیثیت سے، بیٹے ہوں تو مسلمان ہونے کی حیثیت سے، شوہر یا بیوی ہوں تو مسلمان کی حیثیت سے، تاجر، زمیندار، مزدور ملازم یا پیشہ ور ہوں تو مسلمان کی حیثیت سے۔ ان کے جذبات، ان کی خواہشات، ان کے نظریات، ان کے خیالات اور اُن کی رائیں، اُن کی نفرت اور رغبت، اُن کی پسند اور ناپسند سب کچھ اسلام کے تابع ہو۔ اُن کے دل و دماغ پر، اُن کی آنکھوں اور کانوں پر، اُن کے پیٹ اور اُن کی شرمگاہوں پر اور اُن کے ہاتھ پاؤں اور اُن کے جسم و جان پر اسلام کا مکمل قبضہ ہو۔ نہ اُن کی محبت اسلام سے آزاد ہو، نہ دشمنی جس سے ملیں تو اسلام کے لیے ملیں اور جس سے لڑیں تو اسلام کے لیے لڑیں۔ کسی کو دیں تو اس لیے دیں کہ اسلام کا تقاضا یہی ہے کہ اسے دیا جائے اور کسی سے روکیں تو اس لیے روکیں کہ اسلام یہی کہتا ہے کہ اس سے روکا جائے۔ اور ان کا یہ طرزِ عمل صرف انفرادی حد تک ہی نہ ہو بلکہ اُن کی اجتماعی زندگی بھی سراسر اسلام کی بنیاد ہی پر قائم ہو بحیثیت ایک جماعت کے اُن کی ہستی صرف اسلام کے لیے قائم ہو اور ان کا سارا اجتماعی برتاؤ اسلام کے اصولوں ہی پر مبنی ہو ۔
یہ دو قسم کے مسلمان حقیقت میں بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں، چاہے قانونی حیثیت سے دونوں ایک ہی اُمت میں شامل ہوں اور دونوں پر لفظ مسلمان کا اطلاق یکساں ہوتا ہو۔ پہلی قسم کے مسلمانوں کا کوئی کارنامہ تاریخِ اسلام میں قابلِ ذکر یا قابلِ فخر نہیں ہے۔ انہوں نے فی الحقیقت کوئی ایسا کام نہیں کیا ہے۔ جس نے تاریخِ عالم پر کوئی اسلامی نقش چھوڑا ہو۔ زمین نے ایسے مسلمانوں کا بوجھ کبھی محسوس نہیں کیا ہے۔ اسلام کو اگر تنزل نصیب ہوا ہے تو ایسے ہی لوگوں کی بدولت ہوا ہے۔ ایسے ہی مسلمانوں کی کثرت مسلم سوسائٹی میں ہو جانے کا نتیجہ اس شکل میں رونما ہوا کہ دنیا کے نظامِ زندگی کی باگیں کفر کے قبضے میں چلی گئیں اور مسلمان اس کے ماتحت رہ کر صرف ایک محدود مذہبی زندگی کی آزادی پر قانع ہو گئے۔ خدا کو ایسے مسلمان ہرگز مطلوب نہ تھے۔ اس نے اپنے انبیاء کو دنیا میں اس لیے نہیں بھیجا تھا نہ اپنی کتابیں اس لیے نازل کی تھیں کہ صرف اس طرز کے مسلمان دنیا میں بنا ڈالے جائیں۔ دنیا میں ایسے مسلمانوں کے نہ ہونے سے کسی حقیقی قدر و قیمت رکھنے والی چیز کی کمی نہ تھی جسے پورا کرنے کے لیے سلسلۂ وحی و نبوت کو جاری کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ درحقیقت جو مسلمان خدا کو مطلوب ہیں جنہیں تیار کرنے کے لیے انبیاء کی بعثت اور کتابوں کی تنزیل ہوئی ہے اور جنہوں نے اسلامی نقطۂ نظر سے کبھی کوئی قابلِ قدر کام کیا ہے یا آج کر سکتے ہیں، وہ صرف دوسری ہی قسم کے مسلمان ہیں۔
یہ چیز کچھ اسلام ہی کے لیے خاص نہیں ہے بلکہ دنیا میں کسی مسلک کا جھنڈا بھی ایسے پیروؤں کے ہاتھوں کبھی بلند نہیں ہوا ہے جنہوں نے اپنے مسلک کے اقرار اور اس کے اصولوں کی پابندی کو اپنی کل زندگی کے ساتھ صرف ضمیمہ بنا کر رکھا ہو اور جن کا جینا اور مرنا اپنے مسلک کے سوا کسی اور چیز کے لیے ہو۔ آج بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک مسلک کے حقیقی اور سچے پیرو صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو دل و جان سے اس کے وفادار ہیں، جنہوں نے اپنی پوری شخصیت کو اُس میں گم کر دیا ہے اور جو اپنی کسی چیز کو حتیٰ کہ اپنی جان اور اپنی اولاد تک کو اس کے مقابلہ میں عزیز تر نہیں رکھتے۔ دُنیا کا ہر مسلک ایسے ہی پیرو مانگتا ہے اور اگر کسی مسلک کو غلبہ نصیب ہو سکتا ہے تو وہ صرف ایسے ہی پیروؤں کی بدولت ہو سکتا ہے۔
البتہ اسلام میں اور دوسرے مسلکوں میں فرق یہ ہے کہ دوسرے مسلک اگر انسانوں سے اس طرز کی فنائیت اور فدائیت اور وفاداری مانگتے ہیں تو یہ فی الواقع انسان پر ان کا حق نہیں ہے بلکہ یہ ان کا انسان سے ایک بے جا مطالبہ ہے۔ اس کے برعکس اسلام اگر انسان سے اس کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ اس کا عین حق ہے۔ وہ جن چیزوں کی خاطر انسان سے کہتے ہیں کہ تو اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو اور اپنی پوری شخصیت کو اُن پر ترجیح دے، اُن میں سے کوئی بھی ایسی نہیں ہے جس کا فی الواقع انسان پر یہ حق ہو کہ اُس کی خاطر انسان اپنی کسی شے کو قربان کرے۔ لیکن اسلام جس خدا کے لیے انسان سے یہ قربانی مانگتا ہے وہ حقیقت میں اس کا حق رکھتا ہے کہ اس پر سب کچھ قربان کر دیا جائے۔ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ انسان خود اللہ کا ہے۔ جو کچھ انسان کے پاس ہے اور جو کچھ انسان کے اندر ہے سب اللہ کا ہے اور جن چیزوں سے انسان دنیا میں کام لیتا ہے وہ سب بھی اللہ کی ہیں۔ اس لیے عین تقاضائے عدل اور عین مقتضائے عقل ہے کہ جو کچھ اللہ کا ہے وہ اللہ ہی کے لیے ہو دُوسروں کے لیے یا خود اپنے مفاد اور اپنے نفس کے مرغوبات کے لیے انسان جو قربانی بھی کرتا ہے وہ دراصل ایک خیانت ہے، اِلّا یہ کہ وہ خُدا کی اجازت سے ہو۔ اور خُدا کے لیے جو قربانی کرتا ہے فی الحقیقت وہ ادائے حق ہے۔
لیکن اس پہلو سے قطع نظر کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے ان لوگوں کے طرزِ عمل میں ایک بڑا سبق ہے جو اپنے باطل مسلکوں کی خاطر اور اپنے نفس کے جھوٹے معبودوں کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر رہے ہیں اور اُس استقامت کا ثبوت دے رہے ہیں جس کی نظیر مشکل ہی سے تاریخِ انسانی
میں ملتی ہے۔ کس قدر عجیب بات ہو گی اگر باطل کے لیے انسانوں سے ایسی کچھ فدائیت اور فنائیت ظہور میں آئے اور حق کے لیے اس کا ہزارواں حصہ بھی نہ ہو سکے۔
ایمان و اسلام کا یہ معیار جو اس آیت اور اس حدیث میں بیان ہوا ہے، میں چاہتا ہوں کہ ہم سب اپنے آپ کو اس پر پرکھ کر دیکھیں اور اس کی روشنی میں اپنا محاسبہ کریں۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ نے اسلام قبول کیا اور ایمان لے آئے تو دیکھیے کہ آیا فی الواقع آپ کا جینا اور مرنا خدا کے لیے ہے ؟ کیا آپ اسی لیے جی رہے ہیں اور آپ کے دل اور دماغ کی ساری قابلیتیں ، آپ کے جسم اور جان کی ساری قوتیں، آپ کے اوقات اور آپ کی محنتیں کیا اسی کوشش میں صرف ہو رہی ہیں کہ خدا کی مرضی آپ کے ہاتھوں پوری ہو اور آپ کے ذریعہ سے وہ کام انجام پائے جو خدا اپنی مسلم امّت سے لینا چاہتا ہے ؟ پھر کیا آپ نے اپنی اطاعت اور بندگی کو خدا ہی کے لیے مخصوص کر دیا ہے ؟ کیا نفس کی بندگی، خاندان کی ، برادری کی ، دوستوں کی ، سوسائٹی کی اور حکومت کی بندگی ، آپ کی زندگی سے بالکل خارج ہو چکی ہے ؟ کیا آپ نے اپنی پسند اور ناپسند کو سراسر رضائے الٰہی کے تابع کر دیا ہے ؟ پھر دیکھیے کہ آپ واقعی جس سے محبّت کرتے ہیں خدا کے لیے کرتے ہیں ؟ جس سے نفرت کرتے ہیں خدا کے لیے کرتے ہیں ؟ اور اس نفرت اور محبّت میں آپ کی نفسانیت کا کوئی حصّہ شامل نہیں ہے ؟ پھر کیا آپ کا دینا اور روکنا بھی خدا کی خاطر ہو چکا ہے؟ اپنے پیٹ اور اپنے نفس سمیت دنیا میں آپ جس کو جو کچھ دے رہے ہیں اسی لیے دے رہے ہیں کہ خدا نے اس کا حق مقرر کیا ہے اور اس کو دینے سے صرف خُدا کی رضا آپ کو مطلوب ہے ؟ اور اسی طرح جس سے آپ جو کچھ روک رہے ہیں وہ بھی اسی لیے روک رہے ہیں کہ خُدا نے اُسے روکنے کا حکم دیا ہے اور اس کے روکنے میں آپ کو خدا کی خوشنودی حاصل ہونے کی تمنّا ہے ؟ اگر آپ یہ کیفیت اپنے اندر پاتے ہیں تو اللہ کا شکر کیجیے کہ اُس نے آپ پر نعمتِ ایمان کا اتمام کر دیا۔ اور اگر اس حیثیت سے آپ اپنے اندر کمی محسوس کرتے ہیں تو ساری فکریں چھوڑ کر بس اسی کمی کو پورا کرنے کی فکر کیجیے اور تمام کوششوں اور محنتوں کو اسی پر مرکوز کر دیجیے، کیونکہ اسی کسر کے پورے ہونے پر دُنیا میں آپ کی فلاح اور آخرت میں آپ کی نجات کا مدار ہے۔ آپ دنیا میں خواہ کچھ بھی حاصل کر لیں اُس کے حصول سے اُس نقصان کی تلافی نہیں ہو سکتی جو اس کسر کی بدولت آپ کو پہنچے گا۔ لیکن اگر یہ کسر آپ نے پوری کر لی تو خواہ آپ کو دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو پھر بھی آپ خسارے میں نہ رہیں گے۔
یہ کسوٹی اس غرض کے لیے نہیں ہے کہ اس پر آپ دوسروں کو پرکھیں اور ان کے مومن یا منافق، اور مسلم یا کافر ہونے کا فیصلہ کریں۔ بلکہ یہ کسوٹی اس غرض کے لیے ہے کہ آپ اس پر خود اپنے آپ کو پرکھیں، اور آخرت کی عدالت میں جانے سے پہلے اپنا کھوٹ معلوم کر کے یہیں اسے دُور کرنے کی فکر فرمائیں۔ آپ کو فکر اس بات کی نہ ہونی چاہیے کہ دنیا میں مفتی اور قاضی آپ کو کیا قرار دیتے ہیں بلکہ اس کی ہونی چاہیے کہ احکم الحاکمین اور عالم الغیب والشہادۃ آپ کو کیا قرار دے گا۔ آپ اس پر مطمئن نہ ہوں کہ یہاں آپ کا نام مسلمانوں کے رجسٹر میں لکھا ہے، فکر اس بات کی کیجیے کہ خدا کے دفتر میں آپ کیا لکھے جاتے ہیں۔ ساری دنیا بھی آپ کو سندِ اسلام و ایمان دے دے تو کچھ حاصل نہیں۔ فیصلہ جس خُدا کے ہاتھ میں ہے اُس کے ہاں منافق کے بجائے مومن، نافرمان کے بجائے فرمانبردار اور بے وفا کی جگہ وفادار قرار پانا اصل کامیابی ہے۔