حضرت یوسف اور غیر اسلامی نظام حکومت کی رُکنیت
اشاعت: 1945ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مضمون "خان بہادر" صاحب کے ساتھ اسی بحث کا تسلسل ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کے فرعون کی غیر اسلامی حکومت میں شریکِ کار رہنے کے مسئلے پر پہلے سے جاری تھی۔ مولانا مودودی کے مطابق یہ موضوع پہلے دو مرتبہ زیرِ بحث آ چکا تھا، ایک مرتبہ تفصیل کے ساتھ اور دوسری بار اختصار سے، مگر ناقد نے پہلی مفصل بحث کو نظرانداز کرکے صرف دوسری مختصر بحث کو ہدف بنایا۔
مولانا مودودی اس مضمون میں دوبارہ تفصیل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا فرعون کے نظام میں شریک ہونا اور غیر اللہ کے نظامِ حکومت کی رکنیت اختیار کرنے کے مسئلے کے درمیان بنیادی فرق موجود ہے، اور اس ضمن میں ناقد کے اعتراضات کا نکتہ وار جواب دیتے ہیں۔
حضرت یوسف اور غیر اسلامی نظام حکومت کی رُکنیت
ہم جناب خان بہادر صاحب کے بہت شکر گزار ہیں کہ انھوں نے اس مسئلے کو چھیڑ کر پھر ایک مرتبہ ہمیں اپنا نقطۂ نظر صاف صاف پیش کرنے کا موقع بہم پہنچا دیا۔ ہم اس بحث میں اپنا وقت صرف اس اُمید پر صرف کر رہے ہیں کہ بہت سے طالبینِ حق کو اس سلسلے میں اکثر گمراہ کن دلائل کا جواب مل جائے گا جو اطاعتِ غیر اللہ یا بالفاظِ دیگر اسلامِ غیر اللہ کو جائز قرار دینے اور نظامِ کفر کی بندگی کو مباح بلکہ فرضِ کفایہ ٹھیرانے کے حق میں پیش کیے جاتے ہیں۔
قصۂ یوسف علیہ السلام کے زیرِ نظر پہلو پر ہم اس سے پہلے دو مرتبہ بحث کر چکے ہیں۔ پہلی بحث زیادہ مفصل و مدلل تھی اور دوسری مجمل و مختصر، لیکن خان بہادر صاحب نے نہ معلوم کیوں پہلی کو چھوڑ کر دوسری کو مدارِ گفتگو بنایا۔ حالانکہ جو اعتراضات انھوں نے اپنے مضمون میں درج فرمائے ہیں، ان میں سے اکثر کا، بلکہ شاید سب ہی کا جواب ہماری پہلی بحث میں انھیں مل جاتا۔[ملاحظہ ہو اس کتاب کا مضمون ’’رواداری کا غیر اسلامی تصور‘‘۔] بہرحال یہ عدمِ التفات خواہ کسی وجہ سے ہو، ہمارے لیے اس میں خیر ہی کا پہلو نکل آیا کہ جن باتوں کو بار بار چھیڑ کر ہمارے لیے واضح کرنا مشکل تھا، انھیں دوسروں کے چھیڑنے پر بیان کرنے کا ہمیں موقع مل گیا۔
دنیا میں ایک معقول آدمی سے جن چیزوں کی توقع کی جاتی ہے، غالباً ان میں سب سے پہلی چیز یہی ہوتی ہے کہ اس کی باتوں میں تناقض نہ ہو۔ ایک معمولی عقل کا گنوار آدمی بھی جب کسی شخص کو ایسی باتیں کرتے دیکھتا ہے جو ایک دوسرے کے خلاف پڑتی ہوں تو فوراً ٹوک دیتا ہے۔ کیونکہ اس کی نہایت موٹی عقل بھی متناقض باتوں کی غیر معقولیت کو برداشت نہیں کرسکتی، لیکن یہ عجیب ماجرا ہے کہ جن باتوں کی توقع کسی گھٹیا سے گھٹیا مگر ذی عقل انسان سے نہیں کی جاسکتی اُن کی توقع اُس خدا سے کی جاتی ہے جو خود عقل کا خالق اور تمام حکمت کا مالک ہے اور اس سے بھی عجیب تر ماجرا یہ ہے کہ خدا سے اس انتہائی نامعقولیت کی توقع رکھنے والے، بلکہ اس کا مطالبہ کرنے والے کوئی جاہل، کودن لوگ نہیں ہیں بلکہ وہ ذی علم لوگ ہیں جو دنیا بھر کو علم و عقل کے درس دیتے ہیں اور وہ فاضل اصحاب ہیں جن کی عقلیں اپنی دنیا کے معاملات چلانے میں خوب لڑتی ہیں۔ یہ ہوش مند حضرات اپنے خدا سے چاہتے ہیں، اور یہ اُمید بھی رکھتے ہیں کہ اس کی باتوں میں تناقض ہو۔ یعنی وہ یہ بھی کہے کہ میں بادشاہِ زمین و آسمان ہوں اور پھر اپنی زمین کے کسی گوشے پر کسی اور کی بادشاہی تسلیم بھی کرے۔ وہ یہ بھی کہے کہ لوگو! تم سب میرے احکام کی اطاعت کرو، پھر لوگوں کو یہ اجازت بھی دے، بلکہ اس کو فرض تک قرار دے دے کہ اُن حاکموں کی اطاعت بجا لائیں جو اس کے حکم کی سند کے بغیر، اور اکثر حالات میں اُس کے حکم کے خلاف احکام دیتے ہیں۔ وہ انسانوں کے لیے خود ایک قانون بھی بنائے اور یہ اعلان کرے کہ میرا یہی قانون ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے باطل ہے، اور پھر اس کے ساتھ دوسرے قوانین کے نفاذ کو بھی جائز رکھے اور انھی انسانوں کو جن کے لیے اس نے قانون بنایا ہے، یہ ”حق“ بھی دے کہ چاہیں خود اپنے لیے قانون بنائیں اور چاہیں دوسروں کے قوانین کی پیروی کرتے رہیں۔ وہ اپنے پیغمبروں کو خاص اسی غرض کے لیے مبعوث بھی کرے کہ زمین کے باشندوں کو اس کا دین قبول کرنے کی دعوت دیں اور پھر انھی پیغمبروں کو یا ان میں سے کسی کو اس بات کی اجازت بھی دے (بلکہ خان بہادر صاحب کے بقول، اس خدمت پر سراہے بھی) کہ اس دین کے سوا کسی اور دین کے نظام میں کارکن و خدمت گزار بن جائیں اور اسے کامیابی کے ساتھ چلانے میں اپنی قابلیتیں صرف کردیں۔ وہ ساری دنیا کے باشندوں میں سے چھانٹ کر ایک اُمتِ خاص اس مقصد کے لیے بنائے کہ اُس معروف کا حکم دے جسے اُس نے معروف قرار دیا ہے اور اس منکر کو مٹائے جسے اُس نے منکر ٹھیرایا ہے، اور پھر اسی امت کے لیے اس بات کو حلال بلکہ اس کے بعض ”برگزیدہ“ افراد کے لیے فرض کفایہ ٹھہرا دے کہ اُن منکرات کو قائم کرنے اور رواج دینے میں حصہ لیں، جنھیں اس کے باغی معروف ٹھہرا چکے ہیں اور ان معروفات کو مٹانے اور دبانے میں آلہ کار بنیں جو اس کے نافرمانوں کی نگاہ میں منکر قرار پاچکے ہیں۔
یہ ایسی صریح متناقض باتیں ہیں جن کے تناقض کو سمجھنے کے لیے کسی گہرے غور وفکر کی ضرورت نہیں ہے لیکن عجیب بات ہے کہ جولوگ تفسیریں لکھنے اور فقہ ومعقولات کا درس دینے کی قابلیت رکھتے ہیں، اور جو اتنی عقل رکھتے ہیں کہ کلکٹری اور دیوانی جیسے بڑے بڑے مناصب کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں، انھیں یا تو ان باتوں میں کوئی تناقض نظر نہیں آتا یا پھر خداوند عالم کے متعلق اُن کی رائے اتنی بُری ہے کہ وہ اس سے اُن بے عقلیوں اور نادانیوں کی توقع رکھتے ہیں جنھیں ایک جاہل گنوار بھی اپنی چوپال کے کسی رفیق میں پا کر صبر نہیں کرسکتا۔
خان بہادر صاحب اپنے اسی مضمون میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:
”ایک بعد کی آیت سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خزائن مصر پر متصرف ہونے کے بعد تک فرعون مصر کی سلطنت قائم تھی اور فرعون مصر کا دین ہی ملک میں جاری تھا۔ <<مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّا اَنْ يَّشَآءَ اللهُ>> (یوسف 76:12) (ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ ) یہ عبارت صاف بتاتی ہے کہ مصر کا ملکی قانون اس وقت تک مصر میں جاری تھا۔
ان الفاظ کو تحریر کرتے وقت صاحب موصوف جس بات کو ثابت کرنے کی دُھن میں لگے ہوئے تھے، اُس نے شاید انھیں مہلت نہ دی کہ کچھ دیر ٹھیر کر اُس صریح تناقض پرغور کر لیتے جو ان کی مزعومہ تفسیر کے لحاظ سے یہاں قرآن کے بیان میں پیدا ہوجاتا ہے۔ براہ کرام اب وہ ہمارے ہی توجہ دلانے سے غور فرمائیں۔ یہاں خود اُن کی اپنی نقل کردہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مصر کے ملکی قانون کو جو فرعونِ مصر کی حاکمیت کی بنیاد پر تھا، ”دین الملک“ (بادشاہ کا دین) کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ دین صرف اُس پوجا پاٹ ہی کا نام نہیں ہے جو مندروں اور معبدوں میں کی جاتی ہے، بلکہ اُس قانون کا نام بھی ہے جس کے مطابق پولیس مجرموں کو پکڑتی ہے، جس کے تحت عدالت معاملاتِ دیوانی و فوجداری کا فیصلہ کرتی ہے، جس کی پیروی میں ملک کا انتظام چلایا جاتا ہے، اور جس پر تمدن کا سارا نظام قائم ہوتا ہے۔ زندگی کے یہ سارے شعبے بحیثیت مجموعی جس طریقے پر چلتے ہیں، اسی کا نام قرآن کی اصطلاح میں ”دین“ ہے۔ اور چونکہ ملکِ مصر میں وہ طریقہ فرعون کی مشیت سے ماخوذ اور اس کے اقتدارِ اعلیٰ پر مبنی تھا، اس لیے قرآن اس کو ”دین الملک“ کہہ رہا ہے۔ اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ ”دین اللہ“ بھی صرف اسی چیز کا نام نہیں ہے جو مسجدوں اور نماز روزے تک محدود ہو، بلکہ اس سے مراد بھی اُس پوری شریعت کی پابندی ہے جو اللہ کی رضا سے ماخوذ اور اس کی حاکمیت پر مبنی ہو اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنی گرفت میں لے لے۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نبی ہونے کی حیثیت سے کس کام کے لیے مبعوث فرمائے گئے تھے؟ ”دین اللہ“ کی دعوت دینے کے لیے یا ”دین الملک“ کو فروغ دینے کے لیے؟ اگر خان بہادر صاحب کی تاویل اور اُن حضرات کی تفسیر، جن کے بڑے بڑے نام لے کر خان بہادر صاحب ہم کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں، مان لی جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو اپنے نبی کو اس بات پر مامور فرمایا کہ اس کی مخلوق کو، اور خصوصاً اُس مخلوق کو جو مصر میں رہتی تھی، ”دین اللہ“ اختیار کرنے کی دعوت دے، اور دوسری طرف وہی نبی خود اللہ تعالیٰ کی ہدایت و نگرانی میں ”دین الملک“ کے قیام و استحکام کی خدمت انجام دینے لگا۔ اور لطف یہ ہے کہ اللہ میاں اس صریح متناقض طرزِ عمل کا تناقض تو کیا محسوس فرماتے، الٹا اس نبی کے اس فعل کو خان بہادر صاحب کے اپنے الفاظ میں سراہنے لگے اور نظامِ کفر میں اپنے نبی کے بعہدۂ وزارت فائز ہوجانے کو ”انعامِ خداوندی“ سے تعبیر فرمانے لگے۔ گویا کہ اللہ میاں کا حال بھی معاذ اللہ ہمارے زمانے کے اُن دین دار بزرگوں کا سا ہے جو خود تو پیشانی پر سیاہ گٹّا لیے ہوئے مصلّے پر سجدہ گردانی فرما رہے ہوتے ہیں، مگر صاحبزادے جب ایم۔اے پاس کر کے نیم انگریز بنے ہوئے آبکاری کی انسپکٹری پر فائز ہو جاتے ہیں تو وہی دین مجسم بزرگ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ان کے خاندان کو اپنی نعمت سے نواز دیا۔
آگے چل کر خان بہادر صاحب پھر فرماتے ہیں:
”اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ملک مصر کی وزارت پر متمکن ہونے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے تبلیغ حق کا کام نہیں کیا، یا اپنی رسالت کے اعلان سے گریز کیا۔ برخلاف اس کے صاحب ممدوح نے اس وقت جب کہ آپ جیل میں تھے، اسی وقت وحدانیت کی تبلیغ شروع کر دی تھی...... البتہ جو بات آیات سے بلاشک وشبہ ثابت ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ایک غیر اسلامی نظام حکومت کے رکن خود اپنی خواہش اور درخواست پر بنے اور حضرت یوسف علیہ السلام کے اس حکومت کے رکن بننے کے بعد بھی ملک میں غیر اسلامی نظام حکومت اور غیر اسلامی قانون ہی نافذ رہا“۔
یہاں پھر کھلا ہوا تناقض پایا جاتا ہے جس کی طرف صاحب موصوف نے اپنے مدعا کی دُھن میں توجہ نہیں فرمائی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے آخر یہ کس قسم کی وحدانیت کی تبلیغ فرمائی تھی؟ اگر اس ”وحدانیت“ کے معنی یہ تھے کہ وہ پوجا جو معبد میں کی جاتی ہے اور وہ اطاعتِ قانون جس پر سوسائٹی کا نظم اور ملک کا انتظام قائم ہوتا ہے، ایک ہی خدا کے لیے ہو، یعنی پوری زندگی دین اللہ کی تابع ہو جائے، تو خان بہادر کی تاویل کے لحاظ سے حضرت یوسف علیہ السلام نے نوکری کر کے خود اپنی اس تبلیغِ حق کے خلاف عمل کیا اور اگر یہ تبلیغ اس بات کی تھی کہ معبد میں ”دین اللہ“ جاری ہو اور ملک اور سوسائٹی کا سارا نظام ”دین الملک“ پر بدستور چلتا رہے تو ظاہر ہے کہ یہ وحدانیت کی نہیں بلکہ ثنویت اور دو عملی کی تبلیغ تھی۔
پھر مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی رسالت کا اعلان آخر کس معنی میں کیا تھا؟ اگر انھوں نے بادشاہ سمیت تمام لوگوں سے کہا تھا کہ میں مالکِ زمین و آسمان کا نمائندہ ہوں۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، جیسا کہ تمام انبیا کہتے رہے ہیں کہ <<فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ>> (الشعراء 108:26) تو اس اعلان کے ساتھ اُن کا غیر مسلم بادشاہ کی آقائی تسلیم کرنا اور اس کی اطاعت میں اسلامی نظام کے بجائے غیر اسلامی نظام کی خدمت انجام دینا کسی طرح مطابقت نہیں رکھتا۔ اور اگر انھوں نے یہ کہا تھا کہ لوگو! میں ہوں تو بادشاہ ارض و سما کا نمائندہ، مگر میرا مسلک یہ ہے کہ بادشاہ مصر کی اطاعت کروں اور تم کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ اسی کی اطاعت کرو۔ تو صرف یہی نہیں کہ یہ ایک صریح متناقض بات کا اعلان تھا جس کا استقبال سنجیدگی کے بجائے قہقہے کے ساتھ ہونا چاہیے تھا اور ایسا اعلان کرنے والے کو ایوانِ وزارت کے بجائے پاگل خانے میں جگہ ملنی چاہیے تھی، بلکہ آج بھی ایسی کتاب ہرگز ایمان لائے جانے کے قابل نہیں رہتی جو ایک طرف تو خود ہی یہ قاعدۂ کلیہ بیان کرتی ہے کہ خدا نے جو رسول بھی بھیجا ہے، اس لیے بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کے تحت وہ مطاع بن کر رہے <<وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ>> (النساء 64:4) اور دوسری طرف وہی کتاب ایک ایسے شخص کو رسول بھی قرار دیتی ہے جو مطاع بن کر نہیں بلکہ غیر اللہ کا مطیع بن کر رہا اور دوسرے بندگانِ خدا کو بھی اذنِ خداوندی کے تحت اپنا نہیں بلکہ اسی غیر خدا کا مطیع بناتا رہا۔ قرآن اپنے من جانب اللہ ہونے کے ثبوت میں خود یہ معیار پیش کرتا ہے کہ <<لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا>> (النساء 82:4) یعنی اگر یہ کتاب اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتی تو لوگ اس میں بہت کچھ اختلاف بیان پاتے لیکن اگر ہم خان بہادر صاحب اور ان کے طرزِ خیال کے لوگوں کی تاویلات تسلیم کر لیں تو قرآن کے بیانات میں یہاں ایسے کھلے ہوئے تناقضات پائے جائیں گے جن سے قرآن آپ اپنے ہی پیش کردہ معیار کی رُو سے اللہ کے سوا کسی اور کا کلام قرار پائے گا، بلکہ وہ ”اور“ بھی جس کی تصنیف اسے سمجھا جائے گا بہرحال کوئی صحیح الدماغ انسان تو نہ ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ خان بہادر صاحب جس طرزِ خیال کی نمائندگی فرما رہے ہیں، وہ اپنے پیچھے اخلاقی انحطاط کی ایک طویل اور دردناک تاریخ رکھتا ہے۔
مسلمان جب اپنے اصل مقصد کو بھول کر اور اپنے حقیقی مشن کو چھوڑ کر دنیا پرستی میں مبتلا ہو گئے اور دین داری کے معنی ان کی نگاہ میں صرف یہ رہ گئے کہ عبادات اور معاشرت میں چند شرعی طور طریقوں کی پابندی کی جاتی رہے، خواہ مقاصدِ زندگی وہی ہوں جو دنیا پرستوں کے ہوتے ہیں، خواہ نظامِ اجتماعی کی زمام کار صالحین کے ہاتھ میں ہو یا فجار کے ہاتھ میں، اور خواہ اجتماعی امامت اپنے اصول اور نصب العین کے اعتبار سے اسلامی ہو یا غیر اسلامی، تو اس غفلت کی سزا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں اس شکل میں دی گئی کہ ان کی بڑی بڑی آبادیاں پے در پے کفار کی تابع فرمان ہوتی چلی گئیں، لیکن انھوں نے اور ان کے علما نے اسے سزا سمجھنے اور اُس اصلی قصور کی، جس کی پاداش میں یہ سزا ملی تھی، تلافی کرنے کے بجائے اُلٹا یہ سوچنا شروع کر دیا کہ نظامِ کفر میں ”اسلامی زندگی“ کیسے بسر کی جائے۔ چنانچہ ”اضطرار“ کے بہانے سے اُس شرعی اور اسلامی زندگی کا ایک نیا نقشہ مرتب کیا گیا جو غیر شرعی اور غیر اسلامی نظام کے اندر بسر کی جاسکے۔
اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید سزاؤں کا سلسلہ شروع ہوا تاکہ انھیں آزمایا جائے کہ یہ سنبھل کر پلٹتے ہیں، یا اپنی ضلالت میں بعید سے بعید تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اضطرار جسے ابتداً صرف ایک ہی اضطرار سمجھا گیا تھا، اللہ کی سنت کے مطابق آگے بڑھا اور اس نے دائمی، روز افزوں اور غیر متناہی اضطراروں کی شکل اختیار کر لی۔ ہر نئے اضطرار نے مطالبہ کیا کہ جو حدود تم نے کفر کے اندر اسلام اور کفر کے ماتحت اسلامی زندگی کے لیے تجویز کیے ہیں، انھیں سکیڑو اور سکیڑتے چلے جاؤ۔ مگر یہ جتنے عذاب خدا کی طرف سے آئے ہیں، ان میں سے کسی نے بھی مسلمانوں کی آنکھیں نہ کھولیں اور انھوں نے مستقل طور پر یہ قاعدہ ہی طے کر لیا کہ واقعی ہر اضطرار کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اسلامی زندگی کے حدود سکیڑتے رہیں اور تسلطِ کفر کی حدوں کو پھیلنے دیں۔
پھر اس ”اضطرار“ کے تصور نے بھی انھیں ستانا شروع کیا کیونکہ اضطرار کے نیچے حرمت کا تصور لازماً موجود رہتا ہے۔ کوئی صاحبِ عقل آدمی اس صریح بات کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جب آپ محض مضطر ہونے کی وجہ سے سؤر کا گوشت کھائیں گے تو بہر حال سؤر آپ کی نگاہ میں حرام تو ضرور ہی رہے گا۔ اور جب اسے آپ فی الاصل حرام سمجھتے ہوئے مجبوراً کھائیں گے تو ناممکن ہے کہ آپ کے دل میں اس سے نفرت و کراہت نہ ہو۔ ناممکن ہے کہ آپ اس سے لذت لیں، شوق سے کھائیں، زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے اور پیٹ بھر کر کھانے کی کوشش کریں اور اس کے کباب اور قورمہ اور پلاؤ پکوانے کی فکر کریں۔ ایسے ہی اجتناب اور تنفر کا جذبہ اُن تمام معاملات میں ناگزیر طور پر پیدا ہوتا ہے، جنھیں آپ حقیقت کے اعتبار سے حرام سمجھتے ہوں اور صرف اضطرار کی وجہ سے اپنے لیے عارضی طور پر جائز کرلیں، مگر ایک پوری قوم کا اپنی زندگی کے سارے تمدنی، معاشی، سیاسی معاملات میں دائماً اس طرح رہنا کہ اس پر اضطرار کی شرعی و نفسیاتی کیفیت طاری رہے، اور وہ حاضر الوقت نظامِ زندگی سے نفرت و کراہیت کے ساتھ ہمہ گیر اجتناب کرتی رہے، اور صرف اس حد تک اس سے تعلق رکھے جس حد تک ایسا تعلق جینے کے لیے ناگزیر ہو، عملاً محال ہے۔ ایسی حالت کو ایک قلیل مدت سے زیادہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ بہت جلدی طبائع اس سے تھک جاتی ہیں۔ چنانچہ یہ تھکاوٹ بھی مسلمانوں میں ٹھیک اپنے وقت پر پیدا ہوئی لیکن پہلے سے دینی انحطاط جس تسلسل کے ساتھ بڑھتا چلا آ رہا تھا، اس نے ان تھکنے والوں کے ذہن کو اس طرف متوجہ نہ ہونے دیا کہ اپنے اس غلط نظریے پر نظر ثانی کر لے جو ”نظامِ کفر میں اسلامی زندگی“ کے امکان کے متعلق انھوں نے ابتداً قائم کیا تھا اور اُس حالتِ اضطرار کو ختم کرنے کی تدبیریں سوچتے جس کی وجہ سے وہ ہر طرف، ہر شعبۂ زندگی میں حرمتوں سے محصور اور خبائث میں مبتلا ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔ اس کے برعکس دینی انحطاط کی سابق رفتار انھیں جس رُخ پر بڑھا لے گئی، وہ یہ تھا کہ سرے سے ”اضطرار“ کے بہانے ہی کو ختم کردیں تاکہ جو حرمتیں نظامِ کفر میں ترقیات اور آسائشوں کے دروازے ان پر بند کیے ہوئے ہیں، وہ ٹوٹ جائیں اور اباحت وحلت میں تبدیل ہوکر رہیں۔
اس غرض کے لیے دین کا ایک نیا نظریہ قائم کیا گیا۔ وہ نظریہ یہ تھا کہ دین کا تعلق صرف عقائد و عبادات اور چند معاشرتی اُمور مثل نکاح و طلاق وغیرہ سے ہے۔ اگر ان معاملات میں کوئی نظامِ حکومت مسلمانوں کو امن دینے کا ذمہ لے لے تو اسلامی زندگی کا اصل مُدعا حاصل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد دارالکفر، دارالامن ہے۔ اس کی وفاداری و اطاعت لازم ہے، اس کے تحت سارے تمدنی معاملات (جو اس نئے نظریے کے مطابق دنیا بمقابلۂ دین کے زیر عنوان آ جاتے ہیں) انھی قوانین کے مطابق چلنے چاہئیں جو کافرانہ اصولوں پر بنائے گئے ہوں، اور اس کی قانونی و انتظامی مشین کو چلانے میں، بلکہ اس کے تحفظ اور اس کی توسیع کے لیے جان کی قربانیاں تک دینے میں بھی کوئی ’’مضائقہ‘‘ نہیں ہے۔
لیکن یہ معاملہ صرف ’’عدم مضائقہ‘‘ یا اباحت و حلت پر بھی نہ رکا۔ دار الکفر میں مسلمانوں کی ضروریات نے جلد ہی انھیں مجبور کرنا شروع کیا کہ اپنی نئی نسلوں کو خدمت کفر کا شوق دلانے کی کوشش کریں تاکہ ان نقصانات کی تلافی ہو جو اوّل اوّل کچھ مدت کے ’’مضائقہ‘‘ نے انھیں پہنچایا تھا، اس لیے آخری دلیل یہ تصنیف کی گئی کہ مسلمانوں کی ترقی و فلاح، اور بعض حالات میں اُن کی زندگی کا انحصار ہی اس بات پر ہے کہ وہ نظام کفر کے عدالتی، تشریعی ،انتظامی، فوجی ،صنعتی ،غرض تمام شعبوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں، ورنہ اُمت کے وفات پا جانے یا کم از کم ترقی کی دوڑ میں غیر مسلموں سے پیچھے رہ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس دلیل نے بہ یک جنبشِ قلم اسی چیز کو جو کل تک صرف مباح کے مقام پر تھی، فرض کے درجے پر پہنچا دیا اور واجب ہو گیا کہ اگر ساری قوم نہیں تو اس میں سے ایک طبقہ تو اس فرض کے انجام دینے کے لیے ضرور نکلتا ہی رہے، گویا حکم الہی یوں قرار پایا کہ: <<فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الْكُفْرِ لِيُضِلُّوْا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوْا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَضِلُّوْنَ>> اور <<وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الشَّرِّ يَأْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ!>>
دین میں یہی وہ عظیم الشان ترمیم تھی جس کی بدولت بڑے بڑے متقی و دین دار حضرات تسبیحوں کو گردش دیتے وقت وکالت اور منصفی کے پیشوں میں داخل ہوئے تاکہ جس قانون پر وہ ایمان نہیں رکھتے، اس کے مطابق وہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کریں اور کرائیں اور جس قانون پر ایمان رکھتے ہیں، اس کی تلاوت صرف اپنے گھروں میں کرتے رہیں۔ اسی ترمیم کی بدولت بڑے بڑے صلحا و اتقیا کے بچے نئی درس گاہوں میں داخل ہوئے اور وہاں سے بے دینی و مادہ پرستی اور بداخلاقی کے سبق لے لے کر نکلے اور پھر اس نظامِ کفر کے صرف عملی حیثیت ہی سے نہیں، بلکہ اکثر حالات میں اخلاقی اور اعتقادی حیثیت سے بھی خدمت گزار بن گئے، جو ان کے اسلاف کی غفلتوں اور کمزوریوں کی بدولت ان پر ابتداً محض اوپر سے مسلط ہوا تھا۔ پھر اسی ترمیم نے یہاں تک نوبت پہنچائی کہ مردوں سے گزر کر جاہلیت اور ضلالت اور بداخلاقی کا طوفان عورتوں تک پہنچا۔ وہی ”فرض کفایہ“ جسے ادا کرنے کے لیے پہلے مرد اٹھے تھے، عورتوں پر بھی عائد ہو گیا، اور ان بیچاریوں کو بھی آخر اس ”دینی خدمت“ کی بجا آوری کے لیے نکلنا پڑا۔ نہ نکلتیں تو خطرہ تھا کہ کہیں غیر مسلم ان سے بازی نہ لے جائیں [ قیام پاکستان کے بعد اب معاملہ اور آگے بڑھ گیا ہے۔ اب اُمت کے جینے کی صرف یہ صورت رہ گئی ہے کہ شرفا کی لڑکیاں کھلے میدانوں میں فوجی ڈرل کریں، اور مسلمان صاحبزادیاں نرسنگ کی ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے مغربی ممالک میں جائیں، اور غیر ممالک میں مسلمانوں کی نیابت کا فریضہ ان کے نمائندے ہی نہیں، بلکہ نمائندیاں بھی انجام دیا کریں۔]
اور کہیں یہ گمان نہ کر لیجیے گا کہ دین میں یہ ترمیم آج کچھ نئی ہوئی ہے۔ درحقیقت اس کی بنا آج سے صدیوں پہلے پڑ چکی تھی، جبکہ تاتار کے کفار مسلمانوں پر مسلط ہوئے تھے۔ صرف یہی نہیں کہ ”نظامِ کفر میں اسلامی زندگی“ کا نقشہ پہلی مرتبہ اُسی دَور کے علما نے مرتب کیا تھا، بلکہ اُسی زمانے میں بڑے بڑے علما و صلحا نے خود نظامِ کفر کی خدمت گزاری اختیار فرمائی تھی، اور ان میں بکثرت لوگ وہ تھے جن کی کتابیں پڑھ پڑھ کر آج ہمارے مدارسِ عربیہ میں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین تیار ہوتے ہیں۔ اسی قدامت کی وجہ سے غلطی اب ایک مقدس غلطی بن چکی ہے اور کوئی تعجب نہیں ہے اگر ہمارے زمانے کے فقیہ اور محدث اور مفسر سب اس میں مبتلا نظر آتے ہیں، لیکن یہ ظاہر ہے کہ غلط بات نہ اس دلیل سے صحیح ہو سکتی ہے کہ وہ پہلے سے ہوتی چلی آرہی ہے، اور نہ اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ بڑے بڑے لوگ اس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ حق کا اثبات اگر ہو سکتا ہے تو خدا کی کتاب اور رسولوں کی سنت ہی سے ہو سکتا ہے۔
اس پورے انحطاط کے دوران میں، جو ابتدائی اضطرار کی بنا پر اسلام ”زیر سایۂ کفر“ کے نظریے سے شروع ہوا، پھر رفتہ رفتہ، نظامِ کفر کی خدمت جائز ...... مستحب ...... فرضِ کفایہ کے نظریے تک پہنچا، اور بالآخر گرتے گرتے اس انتہائی ذلیل نقطۂ نظر کی پستیوں میں جا گرا کہ ”مذہبی آزادی دینے والے حکمرانوں کی وفاداری عین مقتضائے دین ہے“۔ مسلمانوں کی کوشش برابر یہی رہی کہ اپنے تنزل کے ہر مرحلے میں نیچے اور زیادہ نیچے اترنے کے لیے دلیل بہر حال انھیں خدا کے دین ہی سے ملنی چاہیے۔ یہ مطالبہ بظاہر تو اُن کے زعم میں اس فارمولے پر مبنی تھا کہ ”خدا کا دین چونکہ ہماری تمام ضرورتوں کا ضامن ہے، اس لیے جو ضرورتیں اب پیش آ رہی ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے بھی اسی دین سے ہم کو رہنمائی ملنی چاہیے“، لیکن دراصل اس ظاہری فارمولے کے باطن میں جو حقیقی فارمولا چھپا ہوا تھا اور جس پر فی الواقع یہ لوگ کام کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ ”جب ہم نے اس دین پر یہ احسان کیا ہے کہ اس کو اپنے ایمان سے سرفراز کیا تو اس کے بدلے میں کم سے کم جو فرض اس دین پر عائد ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ ہمارے آگے چلنے کے بجائے ہمارے پیچھے چلنا شروع کر دے“۔ یعنی اب ہمارا اور اس کا تعلق یہ نہ ہو کہ ہم اسے اپنے اوپر اور خدا کی زمین پر قائم کرنے کی سعی کریں اور اس سعی کے سلسلے میں جو ضرورتیں ہم کو پیش آتی جائیں، یہ اُنھیں پورا کرنے کی ضمانت لیتا جائے، بلکہ تعلق کی صورت اب یہ ہونی چاہیے کہ ہم اس کی اقامت کا کام، حتیٰ کہ اس کا خیال تک چھوڑ کر اپنے نفس کی پیروی میں جس جس وادی کی خاک چھانتے پھریں، اس میں یہ ہمارے ساتھ ساتھ گردش کرتا رہے، اور جن جن ادیانِ باطلہ کے ہم تابع فرمان بنتے جائیں، ان کے ماتحت ساری غلامانہ حیثیتیں یہ بھی اختیار کرتا چلا جائے اور اس کے منشا کے خلاف جو جو طرزِ زندگی ہم قبول کریں، ان میں پیش آنے والی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا یہ ضامن ہو“۔ چنانچہ اسی نقطۂ نظر کو لیے ہوئے ان لوگوں نے قرآن وسنت میں رہنمائی تلاش کرنی شروع کی اور حاصل یہ ہوا کہ پورے قرآن میں اگر کسی چیز پر جا کر ان کی نگاہ ٹھہری تو وہ سورۂ عنکبوت تھی، نہ بقرہ، نہ آلِ عمران، نہ انفال، نہ توبہ بلکہ سورۂ یوسف تھی۔ اور اس کے بھی صرف وہ مقامات جن سے خان بہادر صاحب استدلال فرما رہے ہیں۔ اسی طرح پوری سیرتِ نبویؐ میں بھی اگر کوئی چیز ان کو قابلِ اتباع ملی تو وہ مکہ کی تپتی ہوئی ریت تھی، نہ طائف کی سنگ باری، نہ بدر و اُحد کے میدان، بلکہ صرف یہ واقعہ کہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہجرت کر کے حبش گئی تھی اور وہاں ایک عیسائی بادشاہ کے ماتحت چند سال رعایا بن کر رہی۔
لیکن جو شخص مطلب جُو ذہنیت نہ رکھتا ہو بلکہ طالبِ حق ہو، اس کے لیے یہ سوال غایت درجہ اہمیت رکھتا ہے کہ درحقیقت یوسف علیہ السلام کے زیر بحث واقعات اور ہجرتِ حبشہ کے حالات سے بھی کیا وہی نتیجہ نکلتا ہے جو یہ حضرات نکالنا چاہتے ہیں؟ اور اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ وہی نتیجہ نکلتا ہے، یعنی یہ کہ ایک نبی نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت ایک نظامِ کفر کی خدمت اور غیر الٰہی قانون (دین الملک) کے اجرا و نفاذ کی ذمہ داری اسی غرض کے لیے قبول کی تھی کہ ایسا کرنا فی نفسہ مقصود تھا، اور یہ کہ مسلمانوں نے مکہ سے حبش کی طرف اسی بنیاد پر ہجرت کی تھی کہ ایک مسلم جماعت کے لیے ایک غیر مسلم نظامِ تمدّن و سیاست بالکل ایک موزوں جائے قیام ہے، بشرطیکہ وہ مسجد میں اپنے منشا کے مطابق پوجا کر لینے کی اور اپنے سینے میں کچھ عقائد رکھ لینے اور زبان سے ان کے پھاگ اڑا لینے کی اس کو اجازت دے دے، تو اس کے بعد کچھ مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں، جو اوپر کے سوال سے بدرجہا زیادہ اہم اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ یہ بات مان لینے کے بعد تو یہی امر تحقیق طلب ہو جاتا ہے کہ:
(۱) اللہ تعالیٰ نے جو دین انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے نوعِ انسانی کے لیے بھیجا، آیا وہ صرف عبادت گاہ کے لیے تھا یا پوری انسانی زندگی کے لیے؟
(۲) اور جو انبیاء اس دین کو لے کر آئے وہ سارے کے سارے ایک ہی مقصد کے لیے آئے تھے اور ایک ہی ان کا مشن تھا یا مختلف مقاصد اور مختلف مشنوں کے لیے، جن میں سے بعض مشن بعض کی ضد پڑتے ہوں؟
(۳) اور یہ کہ انسان سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ فی الواقع کیا ہے؟ ...... اپنی پوری زندگی میں اس کی بندگی کرے اور اسی کے قانون کی متابعت میں کام کرے، یا صرف پوجا اس کی کرتا رہے اور باقی اپنے سارے معاملات جن طریقوں پر چاہے، چلائے؟
ان سوالات کا ایک جواب یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ نے جو دین بھیجا ہے، اس کا تعلق صرف اُس محدود زندگی سے ہے، جو آج کل کے تصور کے لحاظ سے ’’مذہبی‘‘ کہلاتی ہے، مگر یہ مان لینے کے بعد قرآن میں اور دوسری کتب آسمانی میں تمدن، معاشرت، معیشت، سیاست، قانونِ دیوانی و فوجداری، ضوابطِ شہادت و عدالت اور مسائلِ صلح و جنگ وغیرہ کے متعلق جو ہدایات دی گئی ہیں، وہ سب بے معنی قرار پاتی ہیں۔ یا پھر ان کی حیثیت احکام کی نہیں بلکہ سفارشات کی رہ جاتی ہے، جن پر عمل ہو جائے تو اچھا اور نہ ہو تو اللہ میاں کو کوئی خاص شکایت نہ ہوگی۔
اسی طرح دوسرے سوال کا جواب بھی یہ ہو سکتا ہے اور ہو سکتا کیا معنی، آج کل عام طور پر نبوت کا تصور یہی ہے، کہ مختلف انبیا مختلف مشن لے کر آئے ہیں، حتیٰ کہ ایک نبی کا مقصد بعثت اگر یہ رہا ہے کہ نظامِ کفر کو توڑنے کے لیے لڑے اور اس کی جگہ نظامِ اسلامی کو زمین پر حکمران ہونے کی حیثیت سے قائم کرے تو دوسرے نبی کا مقصدِ بعثت اس کے برعکس یہ رہا ہے کہ نظامِ کفر کے اندر نہ صرف یہ کہ محدود قسم کی مذہبی و اخلاقی اصلاح پر اکتفا کرے، بلکہ اس نظامِ کفر کا مطیع و وفادار بن کر رہے اور موقع ملے تو اس کو چلانے اور فروغ دینے کے لیے خود اپنی خدمات پیش کر دے، مگر یہ بات نہ تو قرآن کے بیان کے مطابق ہے جو پورے زور کے ساتھ یہ تصور پیش کرتا ہے کہ سارے انبیا کا مقصدِ بعثت ایک ہی تھا، اور نہ عقل یہ باور کرنے کے لیے تیار ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسی متضاد اور باہم متصادم حرکات کا ظہور ہو سکتا ہے۔ شاید کوئی معقول آدمی بھی اس خدا کو ایک حکیم خدا ماننے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا جو انسانوں کی طرف اپنے پیغمبر کبھی کسی مقصد کے لیے بھیجے اور کبھی اس کے بالکل برعکس کسی دوسرے مقصد کے لیے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک نبی نظامِ اسلامی کو قائم کرنے کی جدوجہد میں کامیابی کے آخری مرحلوں پر پہنچ جائے، دوسرا نبی بیچ کے کسی مرحلے میں یا ابتدائی مرحلے ہی میں آخر وقت تک کام کرتا رہے اور کوئی تیسرا نبی دعوت و تبلیغ یا جنگ کے بجائے کسی درمیانی صورت کو اپنے مخصوص حالات میں قابلِ عمل پا کر اسے اختیار کر لے، اور ان اشکال کے اختلاف کے باوجود مقصد سب کا ایک ہی ہو، یعنی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے نظامِ زندگی کو مکمل طور پر دنیا میں قائم کرنے کی سعی کرنا، لیکن اس اختلافِ اشکال کو یہ معنی پہنانا کہ انبیا کے مقاصدِ بعثت ہی سرے سے مختلف و متضاد تھے، اللہ پر ایسا بہتان لگانا ہے، جس سے بدتر بہتان شاید کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح تیسرے سوال کا جواب بھی یہ ہوسکتا ہے، اور آج کل کے مسلمان بالعموم یہی سمجھتے ہیں کہ انسان سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ صرف اتنا ہی ہے کہ وہ اس کی پوجا کر لیا کرے اور کچھ مسائل غسل و طہارت اور چند مخصوص حدود حلال و حرام کی پابندی کر لے۔ اس سے آگے نہ اللہ کا کوئی مطالبہ ہے اور نہ اس سے کچھ بحث کہ آدمی زندگی کے وسیع تر معاملات میں اپنے نفس کے قوانین کی پیروی کرتا ہے یا اُن شیاطین جن و انس کے احکام کی جو اس کی وسیع زمین پر مسلط ہو گئے۔ مگر یہ جواب موجودہ زمانے کے دنیا پرستوں کے لیے خواہ کتنا ہی اطمینان بخش ہو اور خواہ ”الدین یسر“ اور ”مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ“ کا یہ منشا قرار دے کر وہ اپنے لیے اس سے کتنی ہی سہولتیں پیدا کرلیں، بہرحال یہ تصور عبدیت و بندگی کے تصور کی قطعی نفی ہے۔ بندگی کا شاید اس سے زیادہ مضحکہ انگیز مفہوم کوئی اور نہیں ہو سکتا کہ بندہ چوبیس گھنٹوں میں سے دو گھنٹوں کے لیے بندہ ہو اور باقی اوقات میں آزاد، یا صرف آقا کو سلامی دے دینے پر اس کی بندگی ختم ہو جائے اور پھر سارے کام اسے اپنے یا دوسروں کے منشا کے مطابق کرتے رہنے کی آزادی حاصل ہو۔ پھر وہ خدا تو ہرگز خدا مانے جانے کے قابل نہیں ہے جو ایک طرف اپنے آپ کو انسان کا خالق اور ربّ بھی کہتا ہو اور دوسری طرف پورے انسان کو چھوڑ کر صرف اس کے ایک نہایت ہی قلیل اور غیر اہم جز تک اپنی آقائی و فرماں روائی کو اور اس کی بندگی و غلامی کو محدود رکھنے پر راضی ہو جائے۔ کوئی باپ اپنے بیٹے پر اپنی پدرانہ حیثیت کو، کوئی شوہر اپنی بیوی پر اپنی شوہرانہ حیثیت کو، کوئی حاکم اپنی مملکت اور اپنی رعایا پر اپنی حاکمانہ حیثیت کو اس حد تک محدود کرنے پر راضی نہیں ہوتا کہ چند مراسم اطاعت و وفاداری ادا ہو جانے کے بعد پدریت اور شوہریت اور حاکمیت کا مقتضا پورا ہو جائے اور پھر بیٹے کو اختیار ہو کہ جس جس کو چاہے اپنا باپ بناتا پھرے، اور رعایا کو اختیار ہو کہ جس جس کے قانون کی چاہے پیروی کرے، جس کو چاہے ٹیکس دے اور جس کے احکام کی چاہے اطاعت کرتی رہے، مگر یہ خدا آخر کیسا خدا ہے کہ جو انسان سارا کا سارا اس کا مخلوق اور اسی کا پروردہ ہے اور اسی کے بل پر قائم و موجود ہے، اس پر وہ اپنی آقائی کو محدود کر لینے اور اس سے بندگی کی چند رسمی باتیں قبول کر کے اسے خود مختار یا ہر ایک کی غلامی کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دینے پر راضی ہے؟
دین اور نبوت اور تقاضائے عبدیت کے یہ تصورات اگر صحیح نہیں ہیں، اگر فی الواقع خدا کا بھیجا ہوا دین انسان کی ساری اجتماعی و انفرادی زندگی سے تعلق رکھتا ہے، اگر خدا کا مطالبہ اپنے بندوں سے یہی ہے کہ وہ ہر حیثیت سے اس کے قانون کے پیرو اور اس کی ہدایت کے متبع ہو کر رہیں، اور اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا کو اسی غرض سے بھیجا تھا کہ وہ اس برحق نظامِ زندگی کو قائم کرنے کی دعوت دیں اور اسی کی اقامت کے لیے سعی کریں جو خدائے واحد کی اطاعت پر مبنی ہو، تو کسی معقول آدمی کے لیے یہ تسلیم کرنا سخت مشکل ہے کہ سارے نبیوں میں سے تنہا ایک حضرت یوسف علیہ السلام ہی ایسے انوکھی قسم کے نبی تھے، جن کے سپرد دین اللہ کو قائم کرنے کی سعی کے بجائے یہ خدمت کی گئی تھی کہ دین الملک کے تحت وزارتِ مال کی نوکری کریں اور اسی طرح کوئی معقول آدمی ان دو متضاد باتوں کو بھی باہم منطبق نہیں کر سکتا کہ نبیؐ ایک طرف تو عرب کے غیر اسلامی نظام میں دینِ حق کی اقامت کے لیے جدوجہد بھی فرما رہے ہیں اور دوسری طرف آپ کے نزدیک حبش کا غیر اسلامی نظام اس درجے برحق بھی تھا کہ ایک مسلم جمعیت کے لیے وہ ایک مناسب جائے قیام ہو سکتا تھا۔ جو لوگ دین کو ایک معقول ومتناسب نظامِ فکر کی حیثیت سے نہیں دیکھتے، بلکہ اس کو منتشر اور ایک دوسرے سے بے تعلق اجزا کا مجموعہ سمجھتے ہیں، اُن کے لیے تو یہ بہت آسان ہے کہ انبیا کے حالات زندگی، قرآن کی تعلیمات اور دین کے احکام واوامر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک کی ایسی تاویلیں اور تفسیریں کریں جن سے ایک جز دوسرے جز سے اور ایک پہلو دوسرے پہلو سے صریح تناقض کا رنگ اختیار کر لے، لیکن اس دین کو ایک حکیم کے بنائے ہوئے مرتب و مربوط اور متناسب نظام کی حیثیت سے دیکھنے والوں کے لیے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ اُس کے ہر پہلو اور ہر جز کی وہی تفسیر و تاویل اختیار کریں جو کلّی نظام کے مزاج سے مناسبت رکھتی ہو اور کسی ایسی تعبیر کو، خواہ وہ کیسے ہی بڑے علما کی طرف سے پیش کی گئی ہو، قبول نہ کریں، جس سے اس دین کے اندر تناقض اور اس کی تعلیمات اور انبیا علیہم السلام کے کاموں کے درمیان تصادم لازم آتا ہو۔
اب ہم سورۂ یوسف کے زیرِ بحث مقامات اور ہجرتِ حبشہ کے واقعات سے براہِ راست بحث کریں گے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ جس طریقے سے سورۂ یوسف میں بیان ہوا ہے، اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب قبل اس کے کہ نبوت سے سرفراز ہوتے ، اپنے بھائیوں کی غداری اور ایک تجارتی قافلے کی خیانت کی بدولت عزیزِ مصر کے مملوک ہو چکے تھے۔ اس مملوکیت کے زمانے میں، یا اس کے بعد جبکہ آپ قید کیے جا چکے تھے، آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت کا منصب عطا کیا گیا......اغلب یہی ہے کہ یہ سرفرازی قید ہی کے زمانے میں ہوئی ہوگی ، کیونکہ قید ہونے سے پہلے آپ کے کلام کا انداز پیغمبرانہ شان کا نہیں بلکہ صرف ایک مردِ صالح کا سا نظر آتا ہے۔......اس حالت میں جب آپ نبوت سے سرفراز ہوئے تو آپ نے معاً اپنی پیغمبرانہ دعوت کی ابتدا کر دی اور ساتھ کے قیدیوں ہی کو اس چیز کی طرف بلانا شروع کر دیا جس کے لیے آپ مامور ہوئے تھے۔ اس دعوت کا خلاصہ سورۂ یوسف، رکوع ۵ میں بیان ہوا ہے، جس کا مطالعہ کر کے آج بھی ہر شخص یہ دیکھ سکتا ہے کہ ان کا بلاوا أَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ کی بندگی کی طرف نہیں تھا، بلکہ ایک ربّ کی بندگی کی طرف تھا، اور وہ بار بار اہل مصر پر یہ واضح کرتے رہے تھے کہ جس بادشاہ کو تم نے ربّ بنا رکھا ہے وہ میرا ربّ نہیں ہے، بلکہ میرا ربّ اللہ ہے اور جس ملّت کی میں پیروی کرتا ہوں وہ اللہ ہی کی بندگی سے عبارت ہے۔ یہ تبلیغ جو وہ قید خانے میں کر رہے تھے، اس کے دوران میں یکا یک یہ صورت حال پیش آئی کہ دیانت و تقویٰ اور حکمت و بصیرت کے جو غیر معمولی نشانات ان کی ذات سے ظاہر ہوئے تھے، فرماں روائے مصر ان سے متاثر ہو گیا اور اس حد تک متاثر ہوا کہ انھیں یہ توقع ہو گئی کہ اگر وہ سلطنت کے پورے اختیارات اس سے مانگیں تو وہ انھیں دینے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ اب یوسف علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے۔ ایک راستہ یہ کہ وہ اسلامی انقلاب کے لیے دعوتِ عام، جدوجہد، کشمکش اور جنگ کے طویل عمل ہی کو اختیار کریں، جو عام حالات میں اختیار کرنا پڑتا ہے۔ دوسرا راستہ یہ کہ وہ اس موقع کو جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ان کے ہاتھ آ گیا تھا، استعمال کریں اور عقیدت مند بادشاہ سے جو اختیارات مل رہے تھے، انھیں لے کر ملک کے نظامِ فکر و اخلاق اور نظامِ تمدن و سیاست کو بدلنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ نے جو بصیرت اُن کو عطا کی تھی اس کی بنا پر انھوں نے پہلے راستے کی بہ نسبت دوسرے راستے کو اپنے مقصد کے لیے مفید تر اور اپنی منزلِ مقصود سے قریب تر سمجھا اور اسے اختیار کر لیا۔
یہ غیر اسلامی نظام کی نوکری نہیں تھی جو پیٹ پالنے کے لیے، یا ذاتی جاہ و منزلت کے لیے، یا نظامِ فاسد کے جزوی مصالح کے لیے کی گئی ہو، بلکہ یہ ایک تدبیر تھی جو اسی ایک مقصد کے لیے اختیار کی گئی تھی جس کے لیے تمام انبیا علیہم السلام کی طرح حضرت یوسف علیہ السلام بھی مبعوث ہوئے تھے۔ جن لوگوں نے اسے محض نوکری سمجھا ہے اور یہ خیال کیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے نظامِ اسلامی کے قیام کے لیے اس کو ذریعہ ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس غرض کے لیے حاصل کیا تھا کہ کافرانہ نظام بدستور قائم رہے اور وہ اس کے تحت بس فنانس منسٹر کی خدمت انجام دیتے رہیں، اُن کے نزدیک حضرت یوسف علیہ السلام کا مرتبہ موجودہ حکومتوں اور ریاستوں کے تنخواہ دار ملازموں سے کچھ بھی بلند نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اتنا بلند بھی نہیں جتنا ہمارے اس ملک میں کانگرسی وزارتوں کا مقام ثابت ہوا ہے۔ جن کا طرزِ عمل تمام ملک دیکھ چکا ہے کہ جب تک انھیں اپنے مقصد (آزادیِ ملک) کے لیے وزارت کے مفید ہونے کا یقین نہ ہو گیا، انھوں نے اور ان کے کسی گرے پڑے شخص نے بھی وزارت قبول کرنے کا خیال تک نہ کیا، اور پھر جب وزارتیں قبول کیں تو یہ دیکھ کر کہ فی الواقع جوہر اقتدار (substance of power) ان کی طرف منتقل نہیں کیا گیا ہے، انھوں نے تمام وزارتوں کو لات مار دی۔
یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ اختیارات بادشاہ سے مانگے گئے تھے یا اس سے چھینے گئے تھے۔ اور نہ یہ بات کوئی اہمیت رکھتی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے برسرِ اقتدار آتے ہی بادشاہ معزول کر دیا گیا یا تختِ سلطنت پر قائم رہا۔ اصل اہمیت جو چیز رکھتی وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے جو منصب طلب کیا تھا، وہ آیا کافرانہ نظام کو چلانے کے لیے اور اس کی ملازمت قبول کرنے کی خاطر کیا تھا یا اپنے مقصدِ بعثت یعنی نظامِ اسلامی کو قائم کرنے کی خاطر ، دوسری چیز جو اہمیت رکھتی ہے، وہ یہ کہ آیا فی الواقع ان کو ایسے اختیارات ملے تھے یا نہیں جن سے وہ ملک کے نظام میں تبدیلی کرنے کے قابل ہو سکتے؟ ہمارے نزدیک دین اور نبوت کے پورے تصور کا تقاضا یہ ہے کہ ہم حضرت یوسف علیہ السلام کے مطالبے <<قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ>> (یوسف 55:12) کا مقصد نظامِ اسلامی کا قیام سمجھیں اور یہ سمجھیں کہ خزائن الارض کے مطالبے سے حضرت یوسف علیہ السلام کا مدعا یہ تھا کہ ملک کے تمام ذرائع و وسائل (resources) ان کے ہاتھ میں دیئے جائیں۔ خان بہادر صاحب خواہ مخواہ خزائن کے لفظ کو مالیات کے معنی میں لے رہے ہیں۔ حالانکہ قرآن میں کہیں بھی یہ لفظ مالیات کے معنوں میں نہیں آیا ہے۔ قرآنی تعلیمات کا تتبع کرنے سے یہ بات واضح ہو سکتی ہے کہ اس لفظ کا مفہوم وہی ہے جو ’ذرائع و وسائل‘ کا مفہوم ہے، اور ظاہر بات ہے کہ کسی شخص کے ہاتھ میں کسی ملک کے تمام ذرائع و وسائل کا ہونا اور اس کا ملک کے تمام سپید و سیاہ پر متصرف ہوجانا، دونوں بالکل ہم معنی ہیں۔ [ مثلاً آیت: <<وَلِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ>> المنافقون 63:7 ’ <<وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ>> الحجر 15:21 ‘
<<اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ>> الطور 37:52 <<وَقَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ>> المؤمن 40:49] ا سی بات کی تصدیق بائبل سے بھی ہوتی ہے، جس میں بصراحت یہ بیان ہوا ہے کہ فرعون مصر صرف برائے نام بادشاہ رہا۔ ورنہ تمام ملک عملاً حضرت یوسف علیہ السلام کے زیر نگیں ہو گیا۔[ بائبل میں سیدنا یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرعون کی جو گفتگو نقل کی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: ”سو فرعون نے اپنے خادموں سے کہا کہ کیا ہم کو ایسا آدمی جیسا یہ ہے، جس میں خدا کی روح ہے، مل سکتا ہے؟ اور فرعون نے یوسف سے کہا: چونکہ خدا نے تجھے یہ سب کچھ دیا ہے، اس لیے تیرے مانند دانشور اور عقلمند کوئی نہیں۔ سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ صرف تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا۔ اور اس نے اسے سارے ملک مصر کا حاکم بنا دیا اور فرعون نے یوسف علیہ السلام سے کہا : میں فرعون ہوں اور تیرے حکم کے بغیر کوئی آدمی اس سارے ملکِ مصر میں اپنا ہاتھ پاؤں ہلانے نہ پائے گا“۔ (پیدائش، باب ۴۱، آیت: ۳۸ تا ۴۴) خط کشیدہ فقرے صحیح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ فرعون حضرت یوسف علیہ السلام کا عقیدت مند ہو چکا تھا اور اگر اس نے آپ کی نبوت تسلیم نہیں کی تھی، تب بھی وہ پہلی ہی ملاقات میں ایمان لانے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پھر اس کے سات آٹھ برس بعد جب حضرت یوسف کے بھائی مصر پہنچتے ہیں تو حضرت یوسف علیہ السلام ان سے کہتے ہیں: ”پس تم نے نہیں، بلکہ خدا نے مجھے یہاں بھیجا اور اس نے مجھے گویا فرعون کا باپ اور اس کے سارے گھر کا حکم بنا دیا۔ سو تم جلد میرے باپ کے پاس جا کر اس سے کہو کہ تیرا بیٹا یوسف یوں کہتا ہے کہ خدا نے مجھے سارے ملکِ مصر کا مالک بنا دیا ہے“۔ (پیدائش، باب ۴۵، آیت ۸ تا ۹)]
اب رہا یہ دعویٰ کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی ملک میں سکہ تو دین الملک ہی کا رواں رہا جیسا کہ آیت <<مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِيْنِ الْمَلِكِ>> (یوسف 76:12) سے ظاہر ہوتا ہے، تو اس کے متعلق پہلی بات تو یہ ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ عام طور پر اس آیت کا جو ترجمہ کیا جاتا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ مترجمین اس کا مفہوم یہ لیتے ہیں کہ حضرت یوسفؑ دین الملک کے تحت اپنے بھائی کو نہیں پکڑ سکتے تھے۔ حالانکہ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ یوسف کا یہ کام نہ تھا، یا یوسف کے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ اپنے بھائی کو دین الملک کے تحت پکڑتا۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی اس محاورے کا مفہوم عدمِ قدرت نہیں، بلکہ عدمِ موزونیت و عدمِ مناسبت ہی ہے۔ مثلاً <<وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَی الْغَیْبِ>> (آل عمران 179:3) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تم کو غیب پر مطلع نہیں کر سکتا، بلکہ یہ ہے کہ اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ تمھیں غیب پر مطلع کرے۔ اسی طرح <<وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ>> (البقرہ 143:2) اور <<مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَا اَنْتُمْ عَلَیْهِ>> (آل عمران 179:3) میں اللہ تعالیٰ کی عدمِ قدرت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ یہ ذکر ہے کہ ظلم اور اضاعتِ ایمان اور مومنین و منافقین کو خلط ملط چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کا طریقہ نہیں ہے۔ اور خود سورۂ یوسف میں اس آیت سے پہلے ایک مقام پر جو ارشاد ہوا ہے: <<مَا كَانَ لَنَا اَنْ نُشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ>> (یوسف 38:12) تو اس کے معنی بھی یہ نہیں ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے پر قادر نہیں ہیں، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ”ہم لوگوں کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کریں“۔ پس آیتِ زیرِ بحث کو بھی یہ معنی پہنانا صحیح نہیں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام دین الملک پر عمل کرنا چاہتے تھے مگر اس کے تحت اپنے بھائی کو گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ قرآنی استعمالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا صحیح مطلب یہی ہے کہ دین الملک کے تحت اپنے بھائی کو گرفتار کرنا یوسف علیہ السلام کے شایانِ شان نہیں تھا۔ البتہ اس آیت سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ ا لسلام کے صاحب اقتدار ہونے کے باوجود غیر اسلامی قانون تعزیرات کم از کم سات آٹھ برس بعد تک (جبکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی وہاں پہنچے تھے) ملک میں نافذ تھا، لیکن اس کے متعلق اس سے پہلے بھی ہم یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ ایک ملک کے نظامِ تمدّن کو ایک رات کے اندر کلّی طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور اسلامی انقلاب کا یہ تصور صحیح نہیں ہے کہ اقتدار ہاتھ میں آتے ہی جاہلیت کے تمام قوانین و رسوم کو یک لخت بدل ڈالا جائے۔ خود نبیؐ کے زمانے میں بھی ملک کے نظامِ تمدن کو کلّی طور پر تبدیل کرنے میں پورے دس برس لگے تھے۔ لہٰذا حضرت یوسف علیہ السلام کے دورِ حکومت میں چند سال تک غیر اسلامی قانون تعزیرات یا اس کے ساتھ کچھ دوسرے اسلامی قوانین بھی جاری رہے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پیشِ نظر خدائی قوانین کا اجرا سرے سے تھا ہی نہیں اور وہ کافرانہ قوانین ہی ملک میں برقرار رکھنا چاہتے تھے۔
اب بحث ختم کرنے سے پہلے ذرا ایک نظر ہجرتِ حبشہ کے مسئلے پر بھی ڈال لیجیے! اس معاملے کو جس انداز سے پیش کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ حبش میں ایک غیر مسلم حکومت قائم تھی اور نبیؐ نے مسلمانوں کی ایک جماعت کو وہاں بھیج دیا تا کہ اس کی رعیت بن کر رہیں، پھر صحابہ کرام وہاں غیر مسلم بادشاہ کے وفادار بن کر رہے کیونکہ انھیں اس کے ماتحت عقیدے اور پوجا کی آزادی حاصل تھی، اور جب ایک ہمسایہ بادشاہ نے اس کے ملک پر حملہ کیا تو انھوں نے اس کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگیں لیکن یہ واقعات کی بالکل غلط نقشہ کشی ہے۔
اوّل تو نبیؐ نے جس وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو حبش بھیجا تھا، اسی وقت آپ کو اس امر کا اندازہ تھا کہ نجاشی صالحین نصاریٰ میں سے ہے، چنانچہ حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ آپ نے مہاجرین سے اُس کی مملکت کے متعلق فرمایا تھا: <<وهی ارض صدق>>۔
دوسرے، مہاجرین کو وہاں بھیجنے کی غرض یہ نہ تھی کہ وہاں کی رعایا بن کر رہیں۔ نبیؐ نے مہاجرین کی ہجرت کا مشورہ دیتے وقت یہ فرمایا تھا کہ <<لو خرجتم الى ارض الحبشة حتى يجعل الله فرجا ومخرجا>>۔ ’’کاش تم لوگ حبش کی طرف چلے جاتے یہاں تک کہ اللہ تمھارے لیے کوئی صورت نکالے‘۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت پیشِ نظر صرف یہ چیز تھی کہ جو مسلمان کشمکش کے اس مرحلے میں اپنی قوتِ برداشت سے زیادہ مصائب کے شکار ہو رہے تھے، ان کو آپ نے عارضی طور پر ایک ایسی جگہ بھیج دیا جہاں اس قسم کے مصائب کی توقع نہ تھی اور مقصود یہ تھا کہ بعد میں جب حالات سازگار ہو جائیں تو یہ لوگ وہاں سے واپس آ جائیں۔ اس کو نظیر بنا کر یہ نتیجہ نکالنا آخر کس طرح صحیح ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو اگر کسی غیر مسلم حکومت میں عقیدے اور پوجا کی آزادی حاصل ہو تو یہ اُس کے تحت ان کے وفادار رعیت بن کر رہ پڑنے کے لیے کافی ہے اور اس کے آگے کچھ اور مطلوب نہیں ہے۔
پھر جب مہاجرین وہاں پہنچے اور کفارِ مکہ نے نجاشی سے ان کو واپس مانگنے کے لیے اپنا وفد روانہ کیا اور حضرت جعفرؓ اور نجاشی کے درمیان مکالمہ ہوا تو محدثین اور اہلِ سیرت کی متفقہ روایت کے مطابق نجاشی نے نہ صرف یہ کہ حضرت عیسیٰؑ کے متعلق اس عقیدے کی تصدیق کی جو قرآن میں بیان ہوا ہے، بلکہ مزید برآں نبیؐ کی نبوت کا اقرار بھی کیا۔ اس کے بعد نجاشی کے مسلمان ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے؟ امام احمدؒ نے عبداللہ بن مسعودؓ کے حوالے سے (جو اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں) نجاشی کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ اس نے کہا:
<<مرحبا بكم ولمن جئتم من عنده اشهد انه رسول الله وانه الذی نجد فى الانجیل وانه الرسول الذی بشر به عیسیٰ ابن مریم [خوش آمدید ہو تمھارے لیے اور ان کیلئے جن کے پاس سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہی ہیں جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور آنحضرت وہی ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ ابن مریم نے دی ہے۔]؎>>
کیا یہ الفاظ کسی غیر مسلم کے ہو سکتے ہیں۔ بیہقی میں خود عمرو بن عاص سے (جو مہاجرین کو واپس لانے کے لیے کفارِ مکہ کی طرف سے حبش بھیجے گئے تھے) یہ الفاظ مروی ہیں کہ انھوں نے آ کر اہلِ مکہ کو جو رپورٹ دی، وہ یہ تھی کہ ان اصحمة یزعم ان صاحبکم نبی۔ اصحمہ نجاشی بیان کرتا ہے کہ تمھارا ساتھی نبی ہے۔ کیا کوئی شخص نبیؐ کی نبوت کا اقرار کر کے بھی غیر مسلم قرار پا سکتا ہے؟
ابن ہشام نے اپنی سیرت نبویؐ میں حضرت عمروؓ بن عاص کے قبولِ اسلام کا جو قصہ لکھا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوّل اوّل نجاشی ہی کی تبلیغ نے ان کے دل میں ایمان پیدا کیا تھا۔ اور صلح حدیبیہ سے پہلے وہ نجاشی کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کر چکے تھے۔ اس موقع پر جو الفاظ اس نے حضرت عمروؓ بن عاص سے کہے تھے، وہ یہ تھے کہ <<اطعنى واتبعه فانه والله لعلى الحق وليظهرن على من خالفه كما ظهر موسى على فرعون وجنوده>>۔ میری بات مانو اور محمدؐ کی پیروی قبول کرلو، کیونکہ وہ حق پر ہیں اور وہ اسی طرح اپنے مخالفین پر غالب آکر رہیں گے، جس طرح موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کے لشکروں پر غالب آئے تھے۔
علامہ ابن عبدالبر نے استیعاب میں وہ خطبہ نقل کیا ہے جو نجاشی نے حضرت ام حبیبہؓ سے نبیؐ کا غائبانہ نکاح پڑھاتے ہوئے دیا تھا۔ اس میں صاف طور پر یہ الفاظ موجود ہیں:
<<اشهد ان محمدًا رسول الله وانه الذى بشر به عيسى بن مريم>>۔ ’’میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں جن کی آمد کی خبر عیسیٰ ابن مریم نے دی تھی‘‘۔ ان سب سے بڑھ کر مستند و معتبر وہ روایت ہے جو بخاری و مسلم میں آئی ہے کہ نجاشی کی وفات کی خبر پا کر نبیؐ نے اس کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی اور فرمایا: <<مات اليوم رجل صالح فقوموا فصلوا على اخيكم اصحمة>>۔ آج ایک مردِ صالح نے وفات پائی ہے، اٹھو اور اپنے بھائی اصحمہ کی نمازِ جنازہ پڑھو۔ اس کے بعد تو سرے سے اس استدلال کی بنا ہی منہدم ہو جاتی ہے جو ہجرتِ حبشہ کے واقعہ سے کیا جاتا ہے۔
ترجمان القرآن
(محرم و صفر ۱۳۶۴ھ بمطابق جنوری و فروری ۱۹۴۵ء)