مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اخلاقیات اجتماعیہ اور اس کا فلسفہ

ماہنامہ شمارہ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا وہ طویل علمی مقالہ ہے جو انہوں نے محض بائیس تئیس برس کی عمر میں ۱۹۲۳ء-۱۹۲۴ء کے دوران تحریر کیا تھا اور جس میں وہ خالص عقلی و فلسفیانہ اسلوب میں فرد اور جماعت کے باہمی تعلق، اجتماعی اخلاق کی بنیادوں اور مغربی مفکرینِ عمرانیات (روسو، ہیگل، مارکس، اسپنسر، ارسطو، افلاطون وغیرہ) کے نظریات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔

مقالہ اس سوال سے آغاز کرتا ہے کہ زندگی کا حقیقی مقصود فرد ہے یا جماعت، اور اسی سے حیات کے "یک جہانی" اور "دو جہانی" تصورات کا فرق واضح کرتا ہے۔ اس کے بعد اخلاقیات کے موضوع، اخلاق کی غایت، انانیت و اخوانیت کے توازن، رواقیوں کے مذہب اور مسیحیت کے فلسفۂ اخلاق پر تنقید، اور اخلاقیات و سیاسیات کے باہمی ربط پر بحث کرتے ہوئے مصنف ایک عادلانہ نظامِ اخلاق اور جماعت کی عادلانہ تنظیم کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔ اس نظام کی بنیاد پانچ بنیادی حقوق پر رکھی گئی ہے—زندگی، آزادی، ملکیت، معاہدہ اور تعلیم کا حق—جن کے مقابل سات اخلاقی فرائض (احترامِ حیات، آزادیِ دیگراں، سیرت، ملکیت، آئین، صداقت اور ترقی) تجویز کیے گئے ہیں۔

یہ مقالہ اصلاً فروری ۱۹۲۵ء سے ماہنامہ "ہمایوں" لاہور میں قسط وار شائع ہوا تھا اور برسوں گم نامی میں رہنے کے بعد غالب لائبریری کراچی کے پرانے شماروں سے دوبارہ دریافت کرکے ۱۹۸۰ء میں پہلی بار کتابی صورت میں مرتب کیا گیا۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

احترام آزادی

دوسرا فرض احترام آزادی کا ہے، جسے حق آزادی کے مقابل سمجھنا چاہیے۔ یہ فرض ہم کو دوسروں کی آزادی سلب کرنے اور ان کی آزادانہ ترقی میں دخل دینے سے روکتا ہے۔ البتہ، ایسے حالات میں وہ افراد کی حریت عمل سے تعرض کرنے کی اجازت دیتا ہے، جبکہ وہ حریت خود انہی کی بقا کے لیے مضر ہو یا دوسرے ابنائے جماعت کے حقوق میں صریح مداخلت کرتی ہو۔ مثلاً، اگر کوئی شخص خود کشی کرتا ہو تو تم اسے جبراً روک سکتے ہو، کیونکہ اگرچہ وہ اپنے فعل کا مختار ہے مگر وہ اپنے اس اختیار کو ایک اہم اخلاقی فرض کی خلاف ورزی میں استعمال کر رہا ہے۔ اسی طرح، اگر کوئی شخص کسی کے ہاں چوری کر رہا ہو، تمہیں اجازت ہے کہ اسے اس حرکت سے روکو، کیونکہ وہ اپنے حدود سے تجاوز کرکے دوسروں کے حق میں صریح مداخلت کر رہا ہے۔ مگر ان استثنائی صورتوں سے اصل فرض پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔