مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #960

مسلسل نمبر: 960 · کتاب 9، حدیث 154

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلاَةِ إِلاَّ أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ فَلاَ يَتَكَلَّمَنَّ إِلاَّ بِخَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِي هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ وَغَيْرِهِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا ‏.‏ وَلاَ نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ لاَ يَتَكَلَّمَ الرَّجُلُ فِي الطَّوَافِ إِلاَّ لَحَاجَةٍ أَوْ بِذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى أَوْ مِنَ الْعِلْمِ ‏.‏

اردو ترجمہ

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ کے گرد طواف نماز کے مثل ہے۔ البتہ اس میں تم بول سکتے ہو ( جب کہ نماز میں تم بول نہیں سکتے ) تو جو اس میں بولے وہ زبان سے بھلی بات ہی نکالے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن طاؤس وغیرہ نے ابن عباس سے موقوفاً روایت کی ہے۔ ہم اسے صرف عطاء بن سائب کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، یہ لوگ اس بات کو مستحب قرار دیتے ہیں کہ آدمی طواف میں بلا ضرورت نہ بولے ( اور اگر بولے ) تو اللہ کا ذکر کرے یا پھر علم کی کوئی بات کہے۔

انگریزی ترجمہ

Tawaf around the House is similar to Salat except that you talk during it. So whoever talks in it, then let him not say but good

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔