مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #424

مسلسل نمبر: 424 · کتاب 2، حدیث 277

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ كُنَّا نَعْرِفُ فَضْلَ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَلَى حَدِيثِ الْحَارِثِ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَخْتَارُونَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَإِسْحَاقَ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ صَلاَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يَرَوْنَ الْفَصْلَ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ ‏.‏

اردو ترجمہ

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہما اور ام حبیبہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ہم سے ابوبکر عطار نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سفیان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم جانتے تھے کہ عاصم بن ضمرہ کی حدیث حارث ( اعور ) کی حدیث سے افضل ہے، ۴- صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل کا عمل اسی پر ہے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ آدمی ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق بن راہویہ اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ دن اور رات ( دونوں ) کی نمازیں دو دو رکعتیں ہیں، وہ ہر دو رکعت کے بعد فصل کرنے کے قائل ہیں شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔

انگریزی ترجمہ

The Prophet (S) would pray four Rak'ah before Az-Zuhr and two Rak'ah after it

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔