جامع ترمذی #384
مسلسل نمبر: 384 · کتاب 2، حدیث 236
ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ مَعْقُوصٌ شَعْرُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى هُوَ الْقُرَشِيُّ الْمَكِّيُّ وَهُوَ أَخُو أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى .
اردو ترجمہ
ابورافع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ حسن بن علی رضی الله عنہما کے پاس سے گزرے، وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی گدی پر جوڑا باندھ رکھا تھا، ابورافع رضی الله عنہ نے اسے کھول دیا، حسن رضی الله عنہ نے ان کی طرف غصہ سے دیکھا تو انہوں نے کہا: اپنی نماز پر توجہ دو اور غصہ نہ کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ”یہ شیطان کا حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابورافع رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔ ان لوگوں نے اس بات کو مکروہ کہا کہ نماز پڑھے اور وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہو ۱؎۔
انگریزی ترجمہ
Resume your Salat and do not be angry, for indeed I heard Allah's Messenger (S) saying: 'That is the seat of Ash-Shaitan
سند دیکھیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّهُ مَرَّ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ عَقَصَ ضَفِرَتَهُ فِي قَفَاهُ فَحَلَّهَا فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ مُغْضَبًا فَقَالَ أَقْبِلْ عَلَى صَلاَتِكَ وَلاَ تَغْضَبْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔