مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #3796

مسلسل نمبر: 3796 · کتاب 49، حدیث 195

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ فَإِنِّي سَأَبْعَثُ مَعَكُمْ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ‏"‏ ‏.‏ فَأَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رضى الله عنه ‏.‏ قَالَ وَكَانَ أَبُو إِسْحَاقَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ صِلَةَ قَالَ سَمِعْتُهُ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ أَخْبَرَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ قَلْبُ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ مِنْ ذَهَبٍ ‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ وَأَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک قوم کا نائب اور سردار دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دونوں نے عرض کیا: ہمارے ساتھ آپ اپنا کوئی امین روانہ فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ ایک ایسا امین بھیجوں گا جو حق امانت بخوبی ادا کرے گا“، تو اس کے لیے لوگوں کی نظریں اٹھ گئیں اور پھر آپ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو روانہ فرمایا۔ راوی حدیث ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں: جب وہ اس حدیث کو صلہ سے روایت کرتے تو کہتے ساٹھ سال ہوئے یہ حدیث میں نے ان سے سنی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابن عمر اور انس رضی الله عنہما کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“۔

انگریزی ترجمہ

Send with us your trustworthy one." He said: "I shall send with you a trustworthy one who is truly a trustworthy one." So the people desired that, and he sent Abu 'Ubaidah, may Allah be pleased with him

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالاَ ابْعَثْ مَعَنَا أَمِينًا ‏.‏ فَقَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔