مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #3565

مسلسل نمبر: 3565 · کتاب 48، حدیث 196

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ اللَّهُمَّ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ فَأَنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏

اردو ترجمہ

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیمار کی عیادت کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم أذهب البأس رب الناس واشف فأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! اے لوگوں کے رب! عذاب و تکلیف کو دور کر دے اور شفاء دیدے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیری دی ہوئی شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں ہے، ایسی شفاء دے کہ بیماری کچھ بھی باقی نہ رہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

انگریزی ترجمہ

Ali narrated, saying:“Whenever the Prophet (ﷺ) would visit an ill person, he would said:‘[O Allah,] make the harm go away, Lord of mankind, and heal him, You are the Healer, there is no healing except your healing, a healing that does not leave any sickness ([Allāhumma] adh-hibil-ba’sa rabban-nās, washfi antash-shāfi, lā shifā’a illā shifā’uka shifā’an lā yughādiru saqama).’”

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَادَ مَرِيضًا قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔