مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #3493

مسلسل نمبر: 3493 · کتاب 48، حدیث 124

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏ وَزَادَ فِيهِ ‏"‏ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں سوئی ہوئی تھی، رات میں نے آپ کو اپنی جگہ نہ پا کر آپ کو ادھر ادھر تلاش کیا، ٹٹولا، میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، اس وقت آپ سجدے میں تھے، اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! میں تیری رضا و خوشنودی کے ذریعہ تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے عفو درگزر کے سہارے تیری سزا و عذاب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری ثناء، تیری تعریف کی گنتی اور اس کا احصاء و احاطہٰ نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود آپ اپنی ذات کی تعریف کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ حدیث کئی سندوں سے عائشہ رضی الله عنہا سے آئی ہے۔

انگریزی ترجمہ

Aishah narrated:“I was sleeping at the side of the Messenger of Allah (ﷺ), then I lost him during the night. So I felt around for him, and my hand fell upon his feet while he was prostrating, and he was saying: ‘I seek refuge in Your pleasure from Your anger, and in Your pardon from Your punishment. I cannot count Your praises. You are as You have praised Yourself (A`ūdhu biriḍāka min sakhaṭika wa bi mu`āfātika min `uqūbatika, lā uḥṣi thanā’an `alaika anta kamā athnaita `alā nafsik).’”

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ نَائِمَةً إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔