مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #3449

مسلسل نمبر: 3449 · کتاب 48، حدیث 80

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ رضى الله عنه وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏

اردو ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہوا چلتی ہوئی دیکھتے تو کہتے: «‏‏‏‏اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں، اور جو خیر اس میں ہے وہ چاہتا ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور جو شر اس میں چھپا ہوا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابی بن کعب سے بھی روایت ہے اور یہ حدیث حسن ہے۔

انگریزی ترجمہ

Aishah [may Allah be pleased with her] narrates, saying:“When the Prophet (ﷺ) would see the wind he would say: ‘O Allah, indeed, I ask You for its good, the good of what is in it, and the good of what it has been sent with. And I seek refuge in You from its evil, the evil of what is in it, and the evil of what it has been sent with (Allāhumma innī as’aluka min khairihā wa khairi mā fīhā, wa khairi mā ursilat bihī, wa a`ūdhu bika min sharrihā wa sharri mā fīhā, wa sharri mā ursilat bih).’”

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى الرِّيحَ قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔