مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #3355

مسلسل نمبر: 3355 · کتاب 47، حدیث 407

100%
زیرِ جائزہ
ضعیفDaif Isnaad (Al-Albani)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ مَا زِلْنَا نَشُكُّ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ حَتَّى نَزَلَتْْ ‏:‏ ‏(‏ألهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ‏)‏ قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ مَرَّةً عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ هُوَ رَازِيٌّ وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلاَئِيُّ كُوفِيٌّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏

اردو ترجمہ

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عذاب قبر کے بارے میں برابر شک میں رہے، یہاں تک کہ سورۃ «ألهاكم التكاثر» نازل ہوئی، تو ہمیں اس پر یقین حاصل ہوا۔ ابوکریب کبھی عمرو بن ابی قیس کہتے ہیں، تو یہ عمروبن قیس رازی ہیں – اور عمرو بن قیس ملائی کوفی ہیں اور یہ ابن ابی لیلیٰ سے روایت کرتے ہیں: اور وہ ( ابن ابی لیلیٰ ) روایت کرتے ہیں منہال بن عمرو سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔

انگریزی ترجمہ

Zirr bin Jubaish reported from Ali [may Allah be pleased with him] that he said:“We were still in doubt concerning the torment of the grave, until ‘the mutual rivalry diverts you” was revealed’.”

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔