مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #3276

مسلسل نمبر: 3276 · کتاب 47، حدیث 328

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ انْتَهَى إِلَيْهَا مَا يَعْرُجُ مِنَ الأَرْضِ وَمَا يَنْزِلُ مِنْ فَوْقَ ‏.‏ قَالَ فَأَعْطَاهُ اللَّهُ عِنْدَهَا ثَلاَثًا لَمْ يُعْطِهِنَّ نَبِيًّا كَانَ قَبْلَهُ فُرِضَتْ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ خَمْسًا وَأُعْطِيَ خَوَاتِمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لأُمَّتِهِ الْمُقْحِمَاتُ مَا لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ ‏:‏ ‏(‏ إذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى ‏)‏ قَالَ السِّدْرَةُ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ وَأَشَارَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ فَأَرْعَدَهَا وَقَالَ غَيْرُ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ إِلَيْهَا يَنْتَهِي عِلْمُ الْخَلْقِ لاَ عِلْمَ لَهُمْ بِمَا فَوْقَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏

اردو ترجمہ

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( معراج کی رات ) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو کہا: یہی وہ آخری جگہ ہے جہاں زمین سے چیزیں اٹھ کر پہنچتی ہیں اور یہی وہ بلندی کی آخری حد ہے جہاں سے چیزیں نیچے آتی اور اترتی ہیں، یہیں اللہ نے آپ کو وہ تین چیزیں عطا فرمائیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں فرمائی تھیں، ( ۱ ) آپ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں، ( ۲ ) سورۃ البقرہ کی «خواتیم» ( آخری آیات ) عطا کی گئیں، ( ۳ ) اور آپ کی امتیوں میں سے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا، ان کے مہلک و بھیانک گناہ بھی بخش دیئے گئے، ( پھر ) ابن مسعود رضی الله عنہ نے آیت «إذ يغشى السدرة ما يغشى» ”ڈھانپ رہی تھی سدرہ کو جو چیز ڈھانپ رہی تھی“ ( النجم: ۱۶ ) ، پڑھ کر کہا «السدرہ» ( بیری کا درخت ) چھٹے آسمان پر ہے، سفیان کہتے ہیں: سونے کے پروانے ڈھانپ رہے تھے اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے انہیں چونکا دیا ( یعنی تصور میں چونک کر ان پروانوں کے اڑنے کی کیفیت دکھائی ) مالک بن مغول کے سوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہیں تک مخلوق کے علم کی پہنچ ہے اس سے اوپر کیا کچھ ہے کیا کچھ ہوتا ہے انہیں اس کا کچھ بھی علم اور کچھ بھی خبر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

انگریزی ترجمہ

When the Messenger of Allah (ﷺ) reached Sidrat Al-Muntaha" He said: 'There terminates everything that ascends from the earth, and everything that descends from above. So there Allah gave him three, which He did not give to any Prophet before him: He made fiver prayers obligatory upon him, He gave him the last Verses of Surat Al-Baqarah, and He pardoned the grave sins for those of his Ummah who do not associate anything with Allah.' Ibn Mas'ud said regarding the Ayah: "When that covered the Sidrah which did cover it! (53:16)" he said: "The sixth Sidrah in heavens." Sufyan said: "Golden butterflies" and Sufyan indicated with his hand in a fluttering motion. Others besides Malik bin Mighwal said: "There terminates the creatures' knowledge, there is no knowledge for them of what is above that

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔