مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #3226

مسلسل نمبر: 3226 · کتاب 47، حدیث 278

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ إِنَّ آثَارَكُمْ تُكْتَبُ ‏فَلا يَنْتَقِلُوا‏" .‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ وَأَبُو سُفْيَانَ هُوَ طَرِيفٌ السَّعْدِيُّ ‏.‏

اردو ترجمہ

بنو سلمہ ( قبیلہ کے لوگ ) مدینہ کے کسی نواحی علاقہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے منتقل ہو کر مسجد ( نبوی ) کے قریب آ کر آباد ہونے کا ارادہ کیا تو یہ آیت «إنا نحن نحي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم» ”ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور وہ جو آگے بھیجتے ہیں اسے ہم لکھ لیتے ہیں اور ( مسجد کی طرف آنے و جانے والے ) آثار قدم بھی ہم ( گن کر ) لکھ لیتے ہیں“ ( یس: ۱۲ ) نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، اس لیے تم اپنے گھر نہ بدلو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ثوری سے مروی یہ حدیث حسن غریب ہے۔

انگریزی ترجمہ

Banu Salamah's dwellings were on the outskirts of Al-Madinah, so they wanted to relocate closer to the Masjid. Then this Ayah was revealed: 'Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them), and their traces... (36:12)' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Your steps are recorded, so do not relocate

سند دیکھیں (1 راوی)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَتْ بَنُو سَلِمَةَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَرَادُوا النُّقْلَةَ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏:‏ ‏(‏إنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ‏)‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏

رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)