مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #3199

مسلسل نمبر: 3199 · کتاب 47، حدیث 251

100%
زیرِ جائزہ
ضعیفDaif Isnaad (Al-Albani)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا صَاعِدٌ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ قُلْنَا لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏:‏ ‏(‏ما جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ ‏)‏ مَا عَنَى بِذَلِكَ قَالَ قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا يُصَلِّي فَخَطَرَ خَطْرَةً فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ أَلاَ تَرَى أَنَّ لَهُ قَلْبَيْنِ قَلْبًا مَعَكُمْ وَقَلْبًا مَعَهُمْ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ما جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ ‏)‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏

اردو ترجمہ

ابوظبیان کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا: ذرا بتائیں اللہ تعالیٰ کے اس قول «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» ”اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں“ ( الاحزاب: ۴ ) ، کا کیا معنی و مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ سے کچھ سہو ہو گیا، آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے منافقین نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں ان کے دو دل ہیں ایک تم لوگوں کے ساتھ اور ایک اوروں کے ساتھ ہے۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» نازل فرمائی۔

انگریزی ترجمہ

Qabus bin Abi Zabyan narrated to us, that his father narrated to him, he said: 'We said to Ibn 'Abbas: "What is the meaning of the saying of Allah the Mighty and Sublime: Allah has not made for any man two hears inside his body.? (33:4)" He said: "The Prophet of Allah (ﷺ) stood one day for Salat, then he was unsure (regarding how much he had prayed). The hypocrites who prayed with him said: 'Don't you see that he has two hearts, a heart with you and another with them?' So Allah revealed: 'Allah has not made for any man two hearts inside his body

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔