جامع ترمذی #3114
مسلسل نمبر: 3114 · کتاب 47، حدیث 166
لَكَ وَلِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
اردو ترجمہ
ایک شخص نے ایک ( غیر محرم ) عورت کا ناجائز بوسہ لے لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا کہ اس کا کفارہ کیا ہے؟ اس پر آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات» نازل ہوئی، اس شخص نے پوچھا کیا یہ ( کفارہ ) صرف میرے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ تمہارے لیے ہے اور میری امت کے ہر اس شخص کے لیے جو یہ غلطی کر بیٹھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
انگریزی ترجمہ
Is this for me O Messenger of Allah?" He said: "For you and for whoever does that among my Ummah
سند دیکھیں (1 راوی)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةَ حَرَامٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ كَفَّارَتِهَا فَنَزَلَتْ : ( أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ) فَقَالَ الرَّجُلُ أَلِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ
رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
- 1صحابی (راویِ اول)