مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #3109

مسلسل نمبر: 3109 · کتاب 47، حدیث 161

100%
زیرِ جائزہ
ضعیفDaif (Al-Albani)

‏ كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ الْعَمَاءُ أَىْ لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَكَذَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَكِيعُ بْنُ حُدُسٍ وَيَقُولُ شُعْبَةُ وَأَبُو عَوَانَةَ وَهُشَيْمٌ وَكِيعُ بْنُ عُدُسٍ وَهُوَ أَصَحُّ وَأَبُو رَزِينٍ اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏

اردو ترجمہ

ابورزین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ اپنی مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ نے فرمایا: ” «عماء» میں تھا، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ ہی اس کے اوپر۔ اس نے اپنا عرش پانی پر بنایا ۱؎“، احمد بن منیع کہتے ہیں: ( ہمارے استاد ) یزید نے بتایا: «عماء» کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسی طرح حماد بن سلمہ نے اپنی روایت میں ”وكيع بن حدس“ کہا ہے اور شعبہ، ابو عوانہ اور ہشیم نے ”وكيع بن عدس“ کہا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، ۳- ابورزین کا نام لقیط بن عامر ہے۔

انگریزی ترجمہ

I said: 'O Messenger of Allah! Where was our Lord before He created His creation?' He said: 'He was (above) the clouds - no air was under him, no air was above him, and He created His Throne upon the water.'" Ahmad [bin Mani'] said: "Yazid bin Harun said (regarding) the air - 'It means there was nothing with him

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔