مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #2441

مسلسل نمبر: 2441 · کتاب 37، حدیث 27

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ أَتَانِي آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ وَهِيَ لِمَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ رَجُلٍ آخَرَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏

اردو ترجمہ

عوف بن مالک اشجعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا ( جبرائیل علیہ السلام ) میرے پاس آیا اور مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا یہ کہ مجھے شفاعت کا حق حاصل ہو، چنانچہ میں نے شفاعت کو اختیار کیا، یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جس کا خاتمہ شرک کی حالت پر نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوملیح نے ایک اور صحابی سے روایت کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ( لیکن ) اس میں عوف بن مالک کا ذکر نہیں کیا، اس حدیث میں ایک طویل قصہ مذکور ہے۔

انگریزی ترجمہ

The Messenger of Allah (s.a.w) said 'Someone came to me from my Lord to give me choice between the half of my Ummah being admitted into Paradise or intercession. So I chose the intercession, and it is for whoever dies and he did not associate anything with Allah."' Another chain reports a similar narration

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔