مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #2438

مسلسل نمبر: 2438 · کتاب 37، حدیث 24

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَاكَ قَالَ ‏"‏ سِوَاىَ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا قَامَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا ابْنُ أَبِي الْجَذْعَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَابْنُ أَبِي الْجَذْعَاءِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثُ الْوَاحِدُ ‏.‏

اردو ترجمہ

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں ایلیاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کے ایک فرد کی شفاعت سے قبیلہ بنی تمیم کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے“، کسی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ شخص آپ کے علاوہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، میرے علاوہ ہو گا“، پھر جب وہ ( راوی حدیث ) کھڑے ہوئے تو میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ کا نام عبداللہ ہے، ان سے صرف یہی ایک حدیث مشہور ہے۔

انگریزی ترجمہ

I was with a troop in Jerusalem, and a man among them said: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: "From the intersection of one man in my Ummah more (people) then Banu Tamim will be admitted into Paradise.' It was said: 'O Messenger of Allah! Someone other than you?' He said: 'Other than me.' So when he stood, I said: 'Who is this?' They said: 'This is Ibn Abi Al-Jadh'a

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ رَهْطٍ بِإِيلِيَاءَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔