مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #2347

مسلسل نمبر: 2347 · کتاب 36، حدیث 44

100%
زیرِ جائزہ
ضعیفDaif (Al-Albani)

‏ إِنَّ أَغْبَطَ أَوْلِيَائِي عِنْدِي لَمُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنَ الصَّلاَةِ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَأَطَاعَهُ فِي السِّرِّ وَكَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ لاَ يُشَارُ إِلَيْهِ بِالأَصَابِعِ وَكَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا فَصَبَرَ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ نَفَضَ بِيَدِهِ فَقَالَ ‏"‏ عُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ قَلَّتْ بَوَاكِيهِ قَلَّ تُرَاثُهُ ‏"‏ ‏.‏ وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ عَرَضَ عَلَىَّ رَبِّي لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا قُلْتُ لاَ يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا أَوْ قَالَ ثَلاَثًا أَوْ نَحْوَ هَذَا فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ وَإِذَا شَبِعْتُ شَكَرْتُكَ وَحَمِدْتُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ‏.‏ وَالْقَاسِمُ هَذَا هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ شَامِيٌّ ثِقَةٌ وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ ‏.‏

اردو ترجمہ

ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے دوستوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ رشک کرنے کے لائق وہ مومن ہے جو مال اور اولاد سے ہلکا پھلکا ہو، نماز میں جسے راحت ملتی ہو، اپنے رب کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرنے والا ہو، اور خلوت میں بھی اس کا مطیع و فرماں بردار رہا ہو، لوگوں کے درمیان ایسی گمنامی کی زندگی گزار رہا ہو کہ انگلیوں سے اس کی طرف اشارہ نہیں کیا جاتا، اور اس کا رزق بقدر «کفاف» ہو پھر بھی اس پر صابر رہے، پھر آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور فرمایا: ”جلدی اس کی موت آئے تاکہ اس پر رونے والیاں تھوڑی ہوں اور اس کی میراث کم ہو“۔

انگریزی ترجمہ

Indeed the best of my friends to me is the one of meager conditions, whose share is in Salat, worshipping his Lord well and obeying him (even) in private. He is obscure among the people such that the fingers are not pointed towards him. His provisions are only what is sufficient and he is patient with that." Then he tapped with his fingers and said: "His death comes quickly, his mourners are few, and his inheritance is little."With this (the above), chain it is narrated that the Prophet (s.a.w) said: "My Lord presented to me, that He would make the valley of Makkah into gold for me, I said: 'No O Lord! But being filled for a day and hungry for a day"-or he said: "three days" or something like that- "So when I am hungry, I would beseech You and remember You, and when I am full I would be grateful to You and praise You

سند دیکھیں

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔