مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #2327

مسلسل نمبر: 2327 · کتاب 36، حدیث 24

100%
زیرِ جائزہ
حسنHasan (Al-Albani)

‏ إِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَأَجِدُنِي الْيَوْمَ قَدْ جَمَعْتُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى زَائِدَةُ وَعَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَهْمٍ قَالَ دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى أَبِي هَاشِمٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

اردو ترجمہ

ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ ابوہاشم بن عتبہ بن ربیعہ القرشی کی بیماری کے وقت ان کی عیادت کے لیے آئے اور کہا: اے ماموں جان! کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے؟ کسی درد سے آپ بے چین ہیں یا دنیا کی حرص ستا رہی ہے، ابوہاشم نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک وصیت کی تھی جس پر میں عمل نہ کر سکا۔ آپ نے فرمایا تھا: ”تمہارے لیے پورے سرمایہ میں سے ایک خادم اور ایک سواری جو اللہ کی راہ میں کام آئے کافی ہے، جب کہ اس وقت میں نے اپنے پاس بہت کچھ جمع کر لیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زائدہ اور عبیدہ بن حمید نے «عن منصور عن أبي وائل عن سمرة بن سهم» کی سند سے روایت کی ہے جس میں یہ نقل کیا ہے کہ معاویہ رضی الله عنہ ابوہاشم کے پاس داخل ہوئے پھر اسی کے مانند حدیث ذکر کی ۲- اس باب میں بریدہ اسلمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔

انگریزی ترجمہ

Mu'awiyah came to Abu Hashim bin 'Uthbah to visit him when he was ill (and dying). He said: 'O Uncle! Why do you cry? Is it from the pangs of death or desire for this world?' He said: 'Neither of these. But the Messenger of Allah (s.a.w) had commissioned me with an obligation that I did not abide by. He (s.a.w) said: "It suffices you to gather the wealth of a servant or a rider in the cause of Allah." And (it is only) today I find that I have gathered it

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ جَاءَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ يَعُودُهُ فَقَالَ يَا خَالُ مَا يُبْكِيكَ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصٌ عَلَى الدُّنْيَا قَالَ كُلٌّ لاَ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَهِدَ إِلَىَّ عَهْدًا لَمْ آخُذْ بِهِ قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔