جامع ترمذی #202
مسلسل نمبر: 202 · کتاب 2، حدیث 54
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُمْهِلُ فَلاَ يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلاَةَ حِينَ يَرَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَحَدِيثُ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكٍ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَهَكَذَا قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنَّ الْمُؤَذِّنَ أَمْلَكُ بِالأَذَانِ وَالإِمَامَ أَمْلَكُ بِالإِقَامَةِ .
اردو ترجمہ
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا مؤذن دیر کرتا اور اقامت نہیں کہتا تھا یہاں تک کہ جب وہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو دیکھ لیتا کہ آپ نکل چکے ہیں تب وہ اقامت کہتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ والی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ہم اسرائیل کی حدیث کو جسے انہوں نے سماک سے روایت کی ہے، صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- اسی طرح بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مؤذن کو اذان کا زیادہ اختیار ہے ۱؎ اور امام کو اقامت کا زیادہ اختیار ہے ۲؎۔
انگریزی ترجمہ
Jabir bin Samurah narrated:The Mu'adh-dhin of Allah's Messenger would wait and he would not call the Iqamah until he saw the Allah's Messenger had come out, he would call the Iqamah when he saw him
سند دیکھیں
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔