مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #2006

مسلسل نمبر: 2006 · کتاب 27، حدیث 112

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ لاَ أَقْرِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَرَآنِي رَثَّ الثِّيَابِ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ مِنَ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلْيُرَ عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الأَحْوَصِ اسْمُهُ عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ الْجُشَمِيُّ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ أَقْرِهِ ‏"‏ أَضِفْهُ وَالْقِرَى هُوَ الضِّيَافَةُ ‏.‏

اردو ترجمہ

مالک بن نضلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک ایسا آدمی ہے جس کے پاس سے میں گزرتا ہوں تو میری ضیافت نہیں کرتا اور وہ بھی کبھی کبھی میرے پاس سے گزرتا ہے، کیا میں اس سے بدلہ لوں؟ ۱؎ آپ نے فرمایا: ”نہیں، ( بلکہ ) اس کی ضیافت کرو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بدن پر پرانے کپڑے دیکھے تو پوچھا، تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال اونٹ اور بکری عطاء کی ہے، آپ نے فرمایا: ”تمہارے اوپر اس مال کا اثر نظر آنا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «اقْرِهِ» کا معنی ہے تم اس کی ضیافت کرو «قری» ضیافت کو کہتے ہیں، ۳- اس باب میں عائشہ، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک نضلہ جشمی ہے۔

انگریزی ترجمہ

I said: 'O Messenger of Allah! I stayed with a man who did not entertain me nor behave hospitably with me. Then he came to stay with me, shall I reciprocate the same to him?' He (ﷺ said: 'No, entertain him." He said: 'He (ﷺ saw me wearing tattered clothes and said:'(Do you have any wealth?' I said: 'Allah has given me various kinds of wealth through camels and goats.' He said: 'Then let it be seen on you)

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ أَمُرُّ بِهِ فَلاَ يَقْرِينِي وَلاَ يُضَيِّفُنِي فَيَمُرُّ بِي أَفَأَجْزِيهِ قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔