مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #1901

مسلسل نمبر: 1901 · کتاب 27، حدیث 5

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ ‏"‏ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ ‏"‏ ‏.‏ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو بَكْرَةَ اسْمُهُ نُفَيْعُ بْنُ الْحَارِثِ ‏.‏

اردو ترجمہ

ابوبکرہ نفیع بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتا دوں؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا“، راوی کہتے ہیں: آپ اٹھ بیٹھے حالانکہ آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر فرمایا: ”اور جھوٹی گواہی دینا“، یا جھوٹی بات کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باربار اسے دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا: ”کاش آپ خاموش ہو جاتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

انگریزی ترجمہ

The messenger of Allah said: 'Shall I not tell you of the biggest of the major sins?' they said : 'Of course! O Messenger of Allah!' He said: 'To join partners with Allah, and disobeying one's parents.'"He said : " He sat up, and he had been reclining. He said: 'And false testimony, or false speech.' And the Messenger of Allah would not stop saying it until we said (to ourselves): 'I wish that he would stop

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔