جامع ترمذی #1849
مسلسل نمبر: 1849 · کتاب 25، حدیث 65
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَأْكُلُ الْقَرْعَ وَهُوَ يَقُولُ يَا لَكِ شَجَرَةً مَا أُحِبُّكِ إِلاَّ لِحُبِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاكِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
اردو ترجمہ
ابو طالوت کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک کے پاس گیا، وہ کدو کھا رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: اے بیل! کس قدر تو مجھے پسند ہے! کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے پسند کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں حکیم بن جابر سے بھی روایت ہے جسے حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔
انگریزی ترجمہ
I entered upon Anas bin Malik while he was eating gourd, and he was saying: 'O you tree! I do not like you but because of the Messenger of Allah (ﷺ) liked you.'" He said: There is something on this topic from Hakim bin Jarir, from his father. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib from this route
سند دیکھیں
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔