مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #1792

مسلسل نمبر: 1792 · کتاب 25، حدیث 5

100%
زیرِ جائزہ
ضعیفDaif (Al-Albani)

‏ أَوَيَأْكُلُ الضَّبُعَ أَحَدٌ ‏"‏ ‏.‏ وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَكْلِ الذِّئْبِ فَقَالَ ‏"‏ أَوَيَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي إِسْمَاعِيلَ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ وَهُوَ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ قَيْسِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ وَعَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ الْجَزَرِيُّ ثِقَةٌ ‏.‏

اردو ترجمہ

خزیمہ بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا کھانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”بھلا کوئی لکڑبگھا کھاتا ہے؟ میں نے آپ سے بھیڑیئے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”بھلا کوئی نیک آدمی بھیڑیا کھاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے ہم اسے عبدالکریم ابی امیہ کے واسطہ سے صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض محدثین نے اسماعیل اور عبدالکریم ابی امیہ کے بارے میں کلام کیا ہے، ( حدیث کی سند میں مذکور ) یہ عبدالکریم، عبدالکریم بن قیس بن ابی المخارق ہیں، ۳- اور عبدالکریم بن مالک جزری ثقہ ہیں۔

انگریزی ترجمہ

I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about eating badger. He said: 'Does anyone eat badger?' So I asked him about eating wolf' He said: 'Does anyone who has any good in him eat wolf?'" [Abu 'Eisa said:] The chain for this Hadith is not strong. We do not know of it except as a narration of Isma'il bin Muslim from 'Abdul-Karim Abi Umayyah. Some of the people of Hadith have criticized Isma'il and 'Abdul Karim Abi Umayyah. And he is 'Abdul-Karim bin Qais, who is Ibn Abi Al-Mukhariq. While 'Abdul-Karim bin Malik Al-Jazari is trustworthy

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ، خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ فَقَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔