مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #1734

مسلسل نمبر: 1734 · کتاب 24، حدیث 15

100%
زیرِ جائزہ
ضعیفVery Daif (Al-Albani)

‏ كَانَ عَلَى مُوسَى يَوْمَ كَلَّمَهُ رَبُّهُ كِسَاءُ صُوفٍ وَجُبَّةُ صُوفٍ وَكُمَّةُ صُوفٍ وَسَرَاوِيلُ صُوفٍ وَكَانَتْ نَعْلاَهُ مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِّتٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ‏.‏ وَحُمَيْدٌ هُوَ ابْنُ عَلِيٍّ الْكُوفِيُّ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الأَعْرَجُ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَحُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ الأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ صَاحِبُ مُجَاهِدٍ ثِقَةٌ ‏.‏ وَالْكُمَّةُ الْقَلَنْسُوَةُ الصَّغِيرَةُ ‏.‏

اردو ترجمہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس دن موسیٰ علیہ السلام سے ان کے رب نے گفتگو کی اس دن موسیٰ علیہ السلام کے بدن پر پرانی چادر، اونی جبہ، اونی ٹوپی، اور اونی سراویل ( پائجامہ ) تھا اور ان کے جوتے مرے ہوئے گدھے کے چمڑے کے تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حمید اعرج کی روایت سے جانتے ہیں، حمید سے مراد حمید بن علی کوفی ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا کہ حمید بن علی اعرج منکرالحدیث ہیں اور حمید بن قیس اعرج مکی جو مجاہد کے شاگرد ہیں، وہ ثقہ ہیں، ۳- «کمہ» : چھوٹی ٹوپی کو کہتے ہیں۔

انگریزی ترجمہ

On the day of His Lord spoke to him, Musa was wearing a wool Kisa', a wool Jubbah, a wool Kummah, wool pants, and his sandals were made of the skin of a dead donkey." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib, we do not know of it except from the the narration of Humaid Al-A'raj. And Humaid - Ibn 'Ali Al-A'raj - I Heard Muhammad saying: "Humaid bin 'Ali Al-A'raj is Munkar in Hadith." While Humaid ibn Qais Al-A'raj Al-Makki, the companion of Mujahid is trustworthy. The Kummah is a small cap

سند دیکھیں (1 راوی)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)