جامع ترمذی #1533
مسلسل نمبر: 1533 · کتاب 20، حدیث 11
أَلاَ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " . فَقَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَقُتَيْلَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ مَعْنَى قَوْلِهِ وَلاَ آثِرًا . أَىْ لَمْ آثُرْهُ عَنْ غَيْرِي يَقُولُ لَمْ أَذْكُرْهُ عَنْ غَيْرِي .
اردو ترجمہ
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم! میرے باپ کی قسم! آپ نے ( انہیں بلا کر ) فرمایا: ”سنو! اللہ نے تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے“، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم اس کے بعد میں نے ( باپ دادا کی ) قسم نہیں کھائی، نہ جان بوجھ کر اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ثابت بن ضحاک، ابن عباس، ابوہریرہ، قتیلہ اور عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابو عبید کہتے ہیں کہ عمر کے قول «ولا آثرا» کے یہ معنی ہیں «لم آثره عن غيري» ( میں نے دوسرے کی طرف سے بھی نقل نہیں کیا ) عرب اس جملہ کو «لم أذكره عن غيري» کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔
انگریزی ترجمہ
By my father, By my father!" So he said: "Verily Allah prohibits you from swearing by your father." So 'Umar said: "By Allah I did not swear by him after that, neither intentionally nor in narrating
سند دیکھیں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ وَهُوَ يَقُولُ وَأَبِي وَأَبِي فَقَالَ
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔