مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #1486

مسلسل نمبر: 1486 · کتاب 18، حدیث 28

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ لَوْلاَ أَنَّ الْكِلاَبَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا كُلِّهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ وَأَبِي رَافِعٍ وَأَبِي أَيُّوبَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَيُرْوَى فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ ‏"‏ أَنَّ الْكَلْبَ الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ الْبَهِيمُ الَّذِي لاَ يَكُونُ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْبَيَاضِ ‏.‏ وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ صَيْدَ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ‏.‏

اردو ترجمہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہیں تو میں تمام کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتا، سو اب تم ان میں سے ہر کالے سیاہ کتے کو مار ڈالو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مغفل کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، جابر، ابورافع، اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض احادیث میں مروی ہے کہ کالا کتا شیطان ہوتا ہے ۲؎، ۴- «الأسود البهيم» اس کتے کو کہتے ہیں جس میں سفیدی بالکل نہ ہو، ۵- بعض اہل علم نے کالے کتے کے کئے شکار کو مکروہ سمجھا ہے۔

انگریزی ترجمہ

If it were not that dogs were part of a nation among the nations, then I would order to that all of them be killed. So kill every one of them that is all black

سند دیکھیں (1 راوی)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُغَفَّلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏

رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)