جامع ترمذی #1450
مسلسل نمبر: 1450 · کتاب 17، حدیث 33
لاَ تُقْطَعُ الأَيْدِي فِي الْغَزْوِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رَوَى غَيْرُ ابْنِ لَهِيعَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ هَذَا . وَيُقَالُ بُسْرُ بْنُ أَبِي أَرْطَاةَ أَيْضًا . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمُ الأَوْزَاعِيُّ لاَ يَرَوْنَ أَنْ يُقَامَ الْحَدُّ فِي الْغَزْوِ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ مَنْ يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِالْعَدُوِّ فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ مِنْ أَرْضِ الْحَرْبِ وَرَجَعَ إِلَى دَارِ الإِسْلاَمِ أَقَامَ الْحَدَّ عَلَى مَنْ أَصَابَهُ . كَذَلِكَ قَالَ الأَوْزَاعِيُّ .
اردو ترجمہ
بسر بن ارطاۃ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جنگ کے دوران ( چوری کرنے والے کا ) ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابن لہیعہ کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، انہیں میں اوزاعی بھی ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: دشمن کی موجودگی میں جہاد کے دوران ( چوری کرنے پر ) حد قائم نہیں کی جائے گی، کیونکہ جس پر حد قائم کی جائے گی اندیشہ ہے کہ وہ دشمن سے مل جائے، البتہ امام جب دارالحرب سے نکل کر دارالاسلام واپس آ جائے تو چوری کرنے والے پر حد قائم کرے۔
انگریزی ترجمہ
The hands are not cut in the battles
سند دیکھیں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْمِصْرِيِّ، عَنْ شُيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔