مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #1417

مسلسل نمبر: 1417 · کتاب 16، حدیث 33

100%
زیرِ جائزہ
حسنHasan (Al-Albani)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَبَسَ رَجُلاً فِي تُهْمَةٍ ثُمَّ خَلَّى عَنْهُ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ بَهْزٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ هَذَا الْحَدِيثَ أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ ‏.‏

اردو ترجمہ

معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت ۱؎ کی بنا پر قید کیا، پھر ( الزام ثابت نہ ہونے پر ) اس کو رہا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- بہز بن حکیم بن معاویہ بن حیدۃ قشیری کی حدیث جسے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، حسن ہے، ۳- اسماعیل بن ابراہیم ابن علیہ نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اس سے زیادہ مکمل اور مطول روایت کی ہے ۲؎۔

انگریزی ترجمہ

Narrated Bahz bin Hakim:from his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) imprisoned a man for an accusation, then he let him go

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔