جامع ترمذی #1399
مسلسل نمبر: 1399 · کتاب 16، حدیث 15
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقِيدُ الأَبَ مِنِ ابْنِهِ وَلاَ يُقِيدُ الاِبْنَ مِنْ أَبِيهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُرَاقَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ . وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مُرْسَلاً وَهَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الأَبَ إِذَا قَتَلَ ابْنَهُ لاَ يُقْتَلُ بِهِ وَإِذَا قَذَفَ ابْنَهُ لاَ يُحَدُّ .
اردو ترجمہ
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ( تو دیکھا ) کہ آپ باپ کو بیٹے سے قصاص دلواتے تھے اور بیٹے کو باپ سے قصاص نہیں دلواتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سراقہ رضی الله عنہ کی اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اس کی سند صحیح نہیں ہے، اسے اسماعیل بن عیاش نے مثنیٰ بن صباح سے روایت کی ہے اور مثنیٰ بن صباح حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، ۲- اس حدیث کو ابوخالد اُحمر نے بطریق: «عن الحجاج بن أرطاة عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۴- یہ حدیث عمرو بن شعیب سے مرسلاً بھی مروی ہے، اس حدیث میں اضطراب ہے، ۴- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ باپ جب اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو بدلے میں ( قصاصاً ) اسے قتل نہیں کیا جائے گا اور جب باپ اپنے بیٹے پر ( زنا کی ) تہمت لگائے تو اس پر حد قذف نافذ نہیں ہو گی۔
انگریزی ترجمہ
The Messenger of Allah (ﷺ) judged that the son is to suffer retaliation for [killing] his father, but the father is not to suffer retaliation for [killing] his son
سند دیکھیں
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔