جامع ترمذی #1168
مسلسل نمبر: 1168 · کتاب 12، حدیث 23
إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَالْمُؤْمِنُ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثُ وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ . وَالْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ هُوَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ وَأَبُو عُثْمَانَ اسْمُهُ مَيْسَرَةُ وَالْحَجَّاجُ يُكْنَى أَبَا الصَّلْتِ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ قَالَ سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ فَقَالَ ثِقَةٌ فَطِنٌ كَيِّسٌ .
اردو ترجمہ
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کو غیرت آتی ہے اور مومن کو بھی غیرت آتی ہے، اللہ کی غیرت اس پر ہے کہ مومن کوئی ایسا کام کرے جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ حدیث یحییٰ بن ابی کثیر ( اس طریق سے بھی ) سے مروی ہے «عن أبي سلمة عن عروة عن أسماء بنت أبي بكر عن النبي صلى الله عليه وسلم» یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں، ۳- حجاج صواف ہی حجاج بن ابی عثمان ہیں۔ ابوعثمان کا نام میسرہ ہے اور حجاج کی کنیت ابوصلت ہے۔ یحییٰ بن سعید نے ان کی توثیق کی ہے۔ یحییٰ بن سعید القطان نے حجاج صواف کے بارے میں کہا: وہ ثقہ ذہین اور ہوشیار ہیں، ۴- اس باب میں عائشہ اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
انگریزی ترجمہ
Abu Hurairah narrated that The Messenger of Allah said:“Allah becomes jealous and the believer becomes jealous. Allah’s jealousy occurs when a believer does what He has made unlawful for him.”
سند دیکھیں
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔