مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #1152

مسلسل نمبر: 1152 · کتاب 12، حدیث 7

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ لاَ يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ إِلاَّ مَا فَتَقَ الأَمْعَاءَ فِي الثَّدْىِ وَكَانَ قَبْلَ الْفِطَامِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ الرَّضَاعَةَ لاَ تُحَرِّمُ إِلاَّ مَا كَانَ دُونَ الْحَوْلَيْنِ وَمَا كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ الْكَامِلَيْنِ فَإِنَّهُ لاَ يُحَرِّمُ شَيْئًا ‏.‏ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ هِيَ امْرَأَةُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ‏.‏

اردو ترجمہ

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ انتڑیوں کو پھاڑ دے ۱؎، اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ رضاعت کی حرمت اس وقت ہوتی ہے جب بچے کی عمر دو برس سے کم ہو، اور جو دو برس پورے ہونے کے بعد ہو تو اس سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی۔

انگریزی ترجمہ

Umm Salamah narrated that The Messenger of Allah said:“No prohibition results from suckling except for what penetrates the intestines while on the breast before weaning.”

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔