مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #1149

مسلسل نمبر: 1149 · کتاب 12، حدیث 4

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih Isnaad (Al-Albani)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، لَهُ جَارِيَتَانِ أَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا جَارِيَةً وَالأُخْرَى غُلاَمًا أَيَحِلُّ لِلْغُلاَمِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالْجَارِيَةِ فَقَالَ لاَ اللِّقَاحُ وَاحِدٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا تَفْسِيرُ لَبَنِ الْفَحْلِ وَهَذَا الأَصْلُ فِي هَذَا الْبَابِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏

اردو ترجمہ

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کے پاس دو لونڈیاں ہوں، ان میں سے ایک نے ایک لڑکی کو دودھ پلایا ہے اور دوسری نے ایک لڑکے کو۔ تو کیا اس لڑکے کے لیے جائز ہے کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرے۔ انہوں نے ( ابن عباس رضی الله عنہما ) نے کہا: نہیں۔ اس لیے کہ «لقاح» ایک ہی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہی اس باب میں اصل ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔

انگریزی ترجمہ

Amr bin Ash-Shariq narrated that Ibn Abbas was asked about the case in which a man had two slave girls, one of them suckled a girl and the other suckled a boy, is it lawful for the boy to marry the girl? She said:“No, the semen is the same.”

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔