مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #690

مسلسل نمبر: 690 · کتاب 8، حدیث 3

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ أَىُّ قَالَ ‏"‏ الْمَسْجِدُ الأَقْصَى ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَكَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ ‏"‏ أَرْبَعُونَ عَامًا وَالأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ فَحَيْثُمَا أَدْرَكْتَ الصَّلاَةَ فَصَلِّ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ گلی میں راستہ چلتے ہوئے میں اپنے والد ( یزید بن شریک ) کو قرآن سنا رہا تھا، جب میں نے آیت سجدہ پڑھی تو انہوں نے سجدہ کیا، میں نے کہا: ابا محترم! کیا آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں؟ کہا: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الحرام ، میں نے عرض کیا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الاقصیٰ ۱؎ میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال کا، اور پوری روئے زمین تمہارے لیے سجدہ گاہ ہے، تو تم جہاں کہیں نماز کا وقت پا جاؤ نماز پڑھ لو ۔

انگریزی ترجمہ

I used to recite Qur'an to my father on the road, and if I recited a verse in which prostration was required, he would prostrate. I said: 'O my father, do you prostrate on the street?' He said: 'I heard Abu Dharr say: "I asked the Messenger of Allah (ﷺ): 'Which Masjid was built first?' He said: 'Al-Masjid Al-Haram.' [1] I said: 'Then which?' He said: 'Al-Masjid Al-Aqsa.' [2] I said: 'How long was there between them?' He said: 'Forty years. And the earth is a Masjid (or a place of prostration) for you, so wherever you are when the time for prayer comes, pray.'" [1] In Makkah. [2] "Furthest Masjid", meaning the Masjid in Jerulsalem

سند دیکھیں

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أَبِي الْقُرْآنَ فِي السِّكَّةِ فَإِذَا قَرَأْتُ السَّجْدَةَ سَجَدَ فَقُلْتُ يَا أَبَتِ أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلاً قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔