مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #641

مسلسل نمبر: 641 · کتاب 7، حدیث 16

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُوقِظَ نَائِمَكُمْ وَلِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي فِي الصُّبْحِ ‏.‏

اردو ترجمہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رات رہتی ہے تبھی اذان دے دیتے ہیں تاکہ سونے والوں کو جگا دیں، اور تہجد پڑھنے والوں کو ( سحری کھانے کے لیے ) گھر لوٹا دیں، اور وہ اس طرح نہیں کرتے یعنی صبح ہونے پر اذان نہیں دیتے ہیں بلکہ پہلے ہی دیتے ہیں ۱؎۔

انگریزی ترجمہ

Bilal calls the Adhan during the night to wake those who are sleeping and so that those who are praying Qiyam can return.[1] Not to say it is like this." The break of dawn is not like this. [2] [1] Meaning to finish. Ash-Shawkani said: "To return to sleeping or return to sitting from praying" Nail Al-Awtar. [2] Indicating with an up and down motion. The true dawn is from right to left

سند دیکھیں (1 راوی)

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)