مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #3704

مسلسل نمبر: 3704 · کتاب 32، حدیث 17

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ يَهَبُ هِبَةً ثُمَّ يَعُودُ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ طَاوُسٌ كُنْتُ أَسْمَعُ الصِّبْيَانَ يَقُولُونَ يَا عَائِدًا فِي قَيْئِهِ وَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَرَبَ ذَلِكَ مَثَلاً حَتَّى بَلَغَنَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ‏"‏ مَثَلُ الَّذِي يَهَبُ الْهِبَةَ ثُمَّ يَعُودُ فِيهَا ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا ‏"‏ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ قَيْئَهُ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

تابعی طاؤس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے پھر اسے واپس لے لے سوائے باپ کے“۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں بچوں کو کہتے ہوئے سنتا تھا «يا عائدا في قيئه» ! اے اپنی قے کے چاٹنے والے، اور نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثال دی ہے یہاں تک کہ مجھے یہ حدیث پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اس شخص کی مثال جو ہبہ دے کر واپس لے لیتا ہے“، اور راوی نے کچھ ایسی بات ذکر کی جس کے معنی یہ تھے کہ اس کی مثال کتے کی ہے جو اپنے قے کو کھا لیتا ہے۔

انگریزی ترجمہ

It is not permissible for anyone to give a gift then take it back, except a father." Tawus said: "I used to hear the boys say: 'O you who goes back to his vomit!' But I did not realize that the Messenger of Allah had said this as a parable, until we heard that he used to say: 'The likeness of the one who gives a gift then takes it back, is that of the dog which eats its vomit

سند دیکھیں

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔