مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #3685

مسلسل نمبر: 3685 · کتاب 31، حدیث 14

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih Isnaad (Al-Albani)

‏ أَلَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ وَصَفَّ بِيَدِهِ بِكَفِّهِ أَجْمَعَ كَذَا أَلاَ سَوَّيْتَ بَيْنَهُمْ ‏.‏

اردو ترجمہ

نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد مجھے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، مجھے ایک چیز دی تھی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چیز پر گواہ بنانا چاہتے تھے جو انہوں نے مجھے دی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے اس لڑکے کے علاوہ بھی کوئی اور لڑکا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں ہے، آپ نے اپنا پورا ہاتھ ہتھیلی سمیت ایک دم سیدھا پھیلاتے ہوئے فرمایا: ”تم نے اس طرح ان کے درمیان برابری کیوں نہ رکھی ۱؎؟“۔

انگریزی ترجمہ

My father took me to the Prophet to ask him to bear witness to something that he had given to me. He said: 'Do you have any other children?' He said: 'Yes.' He gestured with his hand held horizontally like this, (saying): 'Why don't you treat them all equally?

سند دیکھیں

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ فِطْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ ذَهَبَ بِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُشْهِدُهُ عَلَى شَىْءٍ أَعْطَانِيهِ فَقَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔