مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #3633

مسلسل نمبر: 3633 · کتاب 30، حدیث 23

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَأُوصِي بِالنِّصْفِ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَأُوصِي بِالثُّلُثِ قَالَ ‏"‏ نَعَمِ الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ فُقَرَاءَ يَتَكَفَّفُونَ ‏"‏‏.‏

اردو ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس آئے، سعد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنے مال کے دو تہائی حصے اللہ کی راہ میں دے دینے کا حکم ( یعنی اجازت ) دے دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: تو پھر ایک تہائی کی وصیت کر دیتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک تہائی ہو سکتا ہے، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے، ( آپ نے مزید فرمایا ) اگر تم اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر ( اس دنیا سے ) جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں فقیر بنا کر جاؤ کہ وہ ( دوسروں کے سامنے ) ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔

انگریزی ترجمہ

O Messenger of Allah, shall I bequeath two-thirds of my wealth?" He said: "No." He said: "Shall I bequeath half?" He said: "No." He said: "Shall I bequeath one-third?" He said: "Yes, one-third, and one-third is much or large. If you leave your heirs independent of means that is better than if you leave them poor, holding out their hands

سند دیکھیں (1 راوی)

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى سَعْدًا يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِثُلُثَىْ مَالِي قَالَ ‏

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)