مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #3102

مسلسل نمبر: 3102 · کتاب 25، حدیث 18

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ‏}‏ جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَ أَعْمَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ فِيَّ وَأَنَا أَعْمَى قَالَ فَمَا بَرِحَ حَتَّى نَزَلَتْ ‏{‏ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ ‏}‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت: «‏لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اتری تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو اندھے تھے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! میرے متعلق کیا حکم ہے؟ ( میں بیٹھا رہنا تو نہیں چاہتا ) اور آنکھوں سے مجبور ہوں، ( جہاد بھی نہیں کر سکتا ) پھر تھوڑا ہی وقت گذرا تھا کہ یہ آیت: «غير أولي الضرر» نازل ہوئی ( یعنی معذور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں ) ۔

انگریزی ترجمہ

When the following was revealed: 'Not equal are those of the believers who sit (at home),' [1] Ibn Umm Maktum, who was blind, came and said: 'O Messenger of Allah, what about me? I am blind.' He said: 'He did not leave before the following was revealed: Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).'" [2] [1] An-Nisa' 4:95. [2] An-Nisa' 4:

سند دیکھیں (1 راوی)
  1. 1
    صحابی (راویِ اول)