مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #3031

مسلسل نمبر: 3031 · کتاب 24، حدیث 414

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّ كُرَيْبًا، قَالَ سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ - وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَشِيَّةَ عَرَفَةَ - فَقُلْتُ كَيْفَ فَعَلْتُمْ قَالَ أَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى بَلَغْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَنَاخَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ فَأَنَاخُوا فِي مَنَازِلِهِمْ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعِشَاءَ الآخِرَةَ ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ فَنَزَلُوا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا انْطَلَقْتُ عَلَى رِجْلِي فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ وَرَدِفَهُ الْفَضْلُ ‏.‏

اردو ترجمہ

کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے اور وہ عرفہ کی شام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے پوچھا: آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: ہم چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو بٹھایا، پھر مغرب پڑھی، پھر آپ نے لوگوں کو ( اترنے کی اطلاع ) بھیجی، تو لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانوں پر اپنے اونٹ بٹھا لیے۔ تو ابھی وہ اتر بھی نہ سکے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری نماز عشاء بھی پڑھ لی۔ پھر لوگ اترے اور قیام کیا، پھر صبح کی تو میں قریش کے پہلے جتھے والوں کے ساتھ پیدل گیا۔ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( اونٹ پر ) سوار ہوئے۔

انگریزی ترجمہ

I asked usamah bin Zaid, who rode behind the Messenger of Allah one the evening of Arafat. I said: "What did you do?' He said: 'We started traveling until we reached Al-Muzadalifah, then he stopped and prayed Maghrib. Then he sent word to the people to stay in their camps, and they did not unload their camels until the Messenger of Allah had prayed the later Isah. Then the people unloaded their camels and made camp. When morning came I set out on foot amonth those of the Quraish who got there first, and Al-Fadl rode behind the Prophet

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔