سنن نسائی #2995
مسلسل نمبر: 2995 · کتاب 24، حدیث 378
إِذَا كُنْتَ بَيْنَ الأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى وَنَفَخَ - بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ - فَإِنَّ هُنَاكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السُّرَّبَةُ - وَفِي حَدِيثِ الْحَارِثِ يُقَالُ لَهُ السُّرَرُ - بِهِ سَرْحَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا " .
اردو ترجمہ
عمران انصاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میری طرف مڑے اور میں مکہ کے راستہ میں ایک درخت کے نیچے اترا ہوا تھا، تو انہوں نے پوچھا: تم اس درخت کے نیچے کیوں اترے ہو؟ میں نے کہا: مجھے اس کے سایہ نے ( کچھ دیر آرام کرنے کے لیے ) اتارا ہے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم منیٰ کے دو پہاڑوں کے بیچ ہو، آپ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا تو وہاں ایک وادی ہے جسے ”سربہ“ کہا جاتا ہے، اور حارث کی روایت میں ہے اسے ”سرربہ“ کہا جاتا ہے تو وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء کے نال کاٹے گئے ہیں“۔
انگریزی ترجمہ
Abdullah bin Umar came to me when I had stopped beneath a large tree on the way to Makkah. He said: 'Why did you stop beneath this tree?' I said: 'Because of its shade.' Abdullah said: 'The Messenger of Allah said: If you are between the two mountains of Mina - and he pointed with his hand toward the east - there is a valley there called As-Surrabah according to the narration of Al-Harith: Called As-Surar - in which there is large tree beneath which seventy prophets were born." (Daif)
سند دیکھیں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَدَلَ إِلَىَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا نَازِلٌ، تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَقَالَ مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَقُلْتُ أَنْزَلَنِي ظِلُّهَا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔