مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #2316

مسلسل نمبر: 2316 · کتاب 22، حدیث 227

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ أَنْبَأَنَا بَكْرٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ - عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ‏}‏ كَانَ مَنْ أَرَادَ مِنَّا أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ حَتَّى نَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا ‏.‏

اردو ترجمہ

جب آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ”جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ( اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں ) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں“ ( البقرہ: ۱۸۴ ) نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص چاہتا کہ وہ افطار کرے ( کھائے پئے ) اور فدیہ دیدے ( تو وہ ایسا کر لیتا ) یہاں کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اسے منسوخ کر دیا ۱؎۔

انگریزی ترجمہ

When this verse was revealed 'And as for those who can fast with difficulty, (e.g. an old man), they have (a choice either to fast or) to feed a miskin (poor person) (for every day). Those among us who did not want to fast would pay the fidyah, until the verse after it was revealed and abrogated this

سند دیکھیں (1 راوی)

رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)