مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #2208

مسلسل نمبر: 2208 · کتاب 22، حدیث 119

100%
زیرِ جائزہ
ضعیفDaif (Al-Albani)

‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏

اردو ترجمہ

نصر بن علی کہتے ہیں: مجھ سے نضر بن شیبان نے بیان کیا کہ وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملے، تو ان سے انہوں نے کہا: آپ نے ماہ رمضان کے سلسلے میں جو سب سے افضل قابل ذکر چیز سنی ہوا سے بیان کیجئے تو ابوسلمہ نے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ آپ نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو اسے تمام مہینوں میں افضل قرار دیا اور فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام اللیل کیا، یعنی نماز تراویح پڑھی، تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے ہی نکل جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ غلط ہے «أبوسلمة حدثني عبدالرحمٰن» کے بجائے صحیح «أبوسلمة عن أبي هريرة» ہے۔

انگریزی ترجمہ

Tell me of the best thing you heard about the month of Ramadan." Abu Salamah said: "Abdur-Rahman bin 'Awf told me that the Messenger of Allah mentioned Ramadan and said that it is superior to other months, and he said: 'Whoever spends the nights of Ramadan in prayer (Qiyam) out of faith and in the hope of reward, he will emerge from his sins as on the day his mother bore him."'(Daif) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is a mistake, and what is correct is "Abu Salamah, from Abu Hurairah

سند دیکھیں

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ لَهُ حَدِّثْنِي بِأَفْضَلِ، شَىْءٍ سَمِعْتَهُ يُذْكَرُ، فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَفَضَّلَهُ عَلَى الشُّهُورِ وَقَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔