مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #1993

مسلسل نمبر: 1993 · کتاب 21، حدیث 176

100%
زیرِ جائزہ
صحیحHasan Sahih (Al-Albani)

‏ مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ إِلاَّ شُفِّعُوا فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَسَأَلْتُ أَبَا الْمَلِيحِ عَنِ الأُمَّةِ فَقَالَ أَرْبَعُونَ ‏.‏

اردو ترجمہ

ابوبکار حکم بن فروخ کہتے ہیں ہمیں ابوملیح نے ایک جنازے کی نماز پڑھائی تو ہم نے سمجھا کہ وہ تکبیر ( تکبیر اولیٰ ) کہہ چکے ( پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ) وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہا: تم اپنی صفیں درست کرو تاکہ تمہاری سفارش کارگر ہو۔ ابوملیح کہتے ہیں: مجھ سے عبداللہ بن سلیط نے بیان کیا، انہوں نے امہات المؤمنین میں سے ایک سے روایت کی، اور وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، وہ کہتی ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی، آپ نے فرمایا: ”جس میت کی بھی لوگوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھتی ہے تو اس کے حق میں ( ان کی ) شفاعت قبول کر لی جاتی ہے“، تو میں نے ابوملیح سے جماعت ( کی تعداد ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: چالیس افراد پر مشتمل گروہ امت ( جماعت ) ہے۔

انگریزی ترجمہ

Abu Al-Malih led us in offering the funeral prayer and we thought that he had said the Takbir, but he turned to us and said: 'Make you rows straight and intercede properly.' Abu Al-Malih said: Abdullah - meaning Ibn Salit-narrated to me that one of the Mothers of the believes, Maimunah the wife of the Prophet, said: The Prophet told me: There is no deceased person for whom a group of people offers the funeral prayer, but their intercession for him will be accepted.' I asked Abu Al-Malih about the (number of that) group and he said: 'Forty

سند دیکھیں

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ أَبُو الْخَطَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكَّارٍ الْحَكَمُ بْنُ فَرُّوخٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا أَبُو الْمَلِيحِ عَلَى جَنَازَةٍ فَظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ كَبَّرَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَلْتَحْسُنْ شَفَاعَتُكُمْ قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ - وَهُوَ ابْنُ سَلِيطٍ - عَنْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَخْبَرَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔