مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #1458

مسلسل نمبر: 1458 · کتاب 15، حدیث 26

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

أَخْبَرَنِي نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى طِنْفِسَةٍ لَهُ فَرَأَى قَوْمًا يُسَبِّحُونَ قَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلاَءِ قُلْتُ يُسَبِّحُونَ ‏.‏ قَالَ لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لأَتْمَمْتُهَا صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ لاَ يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ وَأَبَا بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ - رضى الله عنهم - كَذَلِكَ ‏.‏

اردو ترجمہ

حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو انہوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، پھر اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے، تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے پوچھا: یہ لوگ ( اب ) کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ لوگ سنت پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: اگر میں اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز پڑھنے والا ہوتا تو میں فرض ہی کو پورا کرتا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، ابوبکر کے ساتھ رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی رہا یہ سب لوگ اسی طرح کرتے تھے۔

انگریزی ترجمہ

My father told me: 'I was with Ibn Umar on a journey, and he prayed Zuhr and 'Asr with two rak'ahs each, then he went and sat on his carpet. He saw some people offering voluntary prayers and said: What are these people doing? I said: They are offering voluntary prayers. He said: If I had wanted to pray before and after (the obligatory prayer) I would have offered it in full. I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not pray more than two rak'ahs when traveling, and Abu Bakr (did likewise) until he died, as did 'Umar and 'Uthman, may Allah (SWT) be pleased with them all

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔