مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #144

مسلسل نمبر: 144 · کتاب 1، حدیث 145

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ غُفِرَ لَهُ مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ ‏"‏ ‏.‏ أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ قَالَ نَعَمْ ‏.‏

اردو ترجمہ

عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل کے لیے نکلے، لیکن یہ غزوہ ان سے فوت ہو گیا، تو وہ سرحد ہی پہ جمے رہے، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے، ان کے پاس ابوایوب اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم موجود تھے، تو عاصم کہنے لگے: ابوایوب! اس سال ہم لوگ غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے ہیں، اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ جو چار مسجدوں ۲؎ میں نماز پڑھ لے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے؟، تو انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں اس سے آسان چیز بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: جو وضو کرے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے اور نماز پڑھے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس کے وہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے جنہیں اس نے اس سے پہلے کیا ہو ، عقبہ! ایسے ہی ہے نا؟ انہوں نے کہا: ہاں ( ایسے ہی ہے ) ۔

انگریزی ترجمہ

O Abu Ayyub, we missed the general mobilization, but we have been told that whoever prays in the four Masjids will be forgiven his sins." He said: "O son of my brother! I will tell you of something easier than that. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) says: 'Whoever performs Wudu' as commanded and prays as commanded, will be forgiven for his previous actions.' Is it not so, O 'Uqbah?" He said: "Yes

سند دیکھیں

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السَّلاَسِلِ فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ فَقَالَ عَاصِمٌ يَا أَبَا أَيُّوبَ فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الأَرْبَعَةِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ ‏.‏ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔