مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #1301

مسلسل نمبر: 1301 · کتاب 13، حدیث 123

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ قَدْ غُفِرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثًا ‏.‏

اردو ترجمہ

محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں گئے، تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر چکا ہے، اور تشہد میں ہے اور کہہ رہا ہے:«اللہم إني أسألك يا اللہ بأنك الواحد الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں، اے اللہ تجھی سے، اس لیے کہ تو ہی ایک ایسا تن تنہا بے نیاز ہے جس نے نہ تو کسی کو جنا ہے، اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے، لہٰذا تو میرے گناہوں کو بخش دے، تو ہی غفور و رحیم یعنی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اس کے گناہ بخش دیے گئے ۔

انگریزی ترجمہ

Allahumma inni as'aluka ya Allah! Bi-annakal-Wahidul-Ahad us-Samad, alladhi lam yalid wa lam yowled, wa lam yakun lahu kufuwan ahad, an taghfirali dhunubi, innaka antal-Ghafurur-Rahim (O Allah, I ask of You, O Allah, as You are the One, the Only, the Self-Sufficient Master, Who begets not nor was He begotten, and there is None equal or comparable to Him, forgive me my sins, for You are the Oft-Forgiving, Most Merciful.)" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "He has been forgiven," three times

سند دیکھیں

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ أَبُو بُرَيْدٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الأَدْرَعِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ الْمَسْجِدَ إِذَا رَجُلٌ قَدْ قَضَى صَلاَتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔