سنن نسائی #1256
مسلسل نمبر: 1256 · کتاب 13، حدیث 78
لاَ " . فَأَخْبَرُوهُ فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ " .
اردو ترجمہ
ابراہیم بن سوید کہتے ہیں کہ علقمہ نے پانچ ( رکعت ) نماز پڑھی، تو ان سے ( اس زیادتی کے بارے میں ) کہا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے ( ایسا ) نہیں کیا ہے، تو میں نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: کیوں نہیں؟ آپ نے ضرور کیا ہے، انہوں نے کہا: اور تم اس کی گواہی دیتے ہو اے اعور! تو میں نے کہا: ہاں ( دیتا ہوں ) تو انہوں نے دو سجدے کیے، پھر انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ ( رکعتیں ) پڑھیں، تو لوگ ایک دوسرے سے کھسر پھسر کرنے لگے، ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، لوگوں نے آپ کو بتایا ( کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، اور دو سجدے کیے، پھر فرمایا: میں انسان ہی ہوں، میں ( بھی ) بھول سکتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو ۔
انگریزی ترجمہ
Alqamah prayed five (rak'ahs) and was told about that. He said: 'Did I really do that?' I nodded yes. He said: 'What about you, O odd-eyed one?' I said: 'Yes'. So he prostrated twice, then he narrated to us from 'Abdullah that the Prophet (ﷺ) prayed five (rak'ahs), and the people whispered to one another, then they said to him: 'Has something been added the prayer?' He said: 'No.' So they told him, and he turned around and prostrated twice, then he said: 'I am only human; I forget as you forget
سند دیکھیں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ صَلَّى عَلْقَمَةُ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ مَا فَعَلْتُ . قُلْتُ بِرَأْسِي بَلَى . قَالَ وَأَنْتَ يَا أَعْوَرُ فَقُلْتُ نَعَمْ . فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى خَمْسًا فَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔